55 لاکھ ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں ، واپڈا کے تقریباً 43 لاکھ کمرشل میٹرز ہولڈرز میں 6 لاکھ کے قریب نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ،2195 ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ
55 لاکھ ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں ، واپڈا کے تقریباً 43 لاکھ کمرشل میٹرز ہولڈرز میں 6 لاکھ کے قریب نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ،2195 ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایاگیاہے کہ ایف بی آر کو اب تک 55 لاکھ ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں ،ملک بھر میں واپڈا کے تقریباً 43 لاکھ کمرشل میٹرز موجود ہیں تاہم اب تک صرف تقریبا 6 لاکھ کمرشل میٹر ہولڈرز نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں،2195 ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز فاروق حامد نائیک، شیری رحمان، شاہزیب درانی اور انوشہ رحمان احمد خان کے علاوہ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہرکیانی نے شرکت کی۔اجلاس کو اکائونٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کی جانب سے سپریم کو رٹ کے ایک فیصلے پر عملدرآمد اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر سٹاف سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم سینیٹ سیکرٹریٹ پر لاگو نہیں ہوتا۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سینیٹ کا اپنا آئینی ڈھانچہ، قواعد و ضوابط ہیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں نہیں آتا۔ کمیٹی نے سینیٹ کے مالی اور انتظامی معاملات آزادانہ طور پر نمٹانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان امور کے لیے اے جی پی آر پر انحصار نہیں ہونا چاہیے۔
کمیٹی نے سینیٹ سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر سٹاف کے زیر التواء تنخواہ سے متعلق معاملات 14 روز کے اندر حل کرنے کی ہدایت کی۔چیئرمین ایف بی آرراشدمحمودلنگڑیال کمیٹی کو ایک فیصد فکسڈ ٹیکس سکیم کے نتائج اور تاجروں کی جانب سے اس میں کم شمولیت کی وجوہات کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات نے بتایا کہ حکومت نے تاجروں سے مشاورت کے بعد یہ اسکیم متعارف کرائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ایک ایپلی کیشن تیار کرکے فعال کی گئی تھی جس کے ذریعے تاجر اپنی تفصیلات فراہم کر سکتے تھے، ایپلی کیشن میں بعض تکنیکی مسائل پیدا ہوئے تھے جنہیں اب دور کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دو ماہ کے دوران ایپلی کیشن کے ذریعے 2195 ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی فروخت کرنے والے تاجر شامل ہیں کمیٹی کو واضح کیا گیا کہ اسکیم کے تحت رجسٹریشن لازمی ہے اور تمام ریٹیلرز کو اپنی آمدن ظاہر کرنے کے ساتھ ٹیکس گوشوارے جمع کرانا ہوں گے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر مرحلہ وار جرمانے عائد کیے جائیں گے، پہلے مرحلے میں 10 ہزار روپے، دوسرے مرحلے میں 25 ہزار روپے اور تیسرے مرحلے میں 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
ٹیکس تقاضوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے کاروباری اداروں کے خلاف بعد ازاں نفاذی کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔کمیٹی نے کاروباری برادری کو ایف بی آر کے نئے اقدام سے آگاہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم شروع کرنے کی سفارش کی۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ سکیم سے متعلق اشتہارات شائع کیے جائیں اور تاجروں کی سہولت کے لیے مکمل معلومات پر مشتمل پمفلٹس مارکیٹوں میں تقسیم کیے جائیں۔چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ سکیم کے حوالے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض تاجروں میں اب بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جو لوگ ایپلی کیشن کے ذریعے رجسٹریشن نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف کو ئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کو اب تک 55 لاکھ ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں ، گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 40 لاکھ گوشوارے جمع ہوئے تھے۔
کمیٹی نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کو سراہا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں تقریبا واپڈاکے 43لاکھ کمرشل بجلی کے میٹرز موجود ہیں تاہم اب تک صرف تقریباً 6 لاکھ کمرشل میٹر ہولڈرز نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔پارلیمنٹ ہائوس میں تعینات طبی عملے کو مالی سال 2025-26 کے لیے پانچ ماہ کی بنیادی تنخواہ کے مساوی اعزازیہ دینے کے معاملے پر بحث کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت قومی صحت نے سینیٹ سیکرٹریٹ میں تعینات طبی عملے کو 2025-26 کا اعزازیہ ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور پولی کلینک اسپتال کو خط لکھ دیا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو میسرز گم کراپ پرائیویٹ لمیٹڈ اور میسرز اولیو کراپ پرائیویٹ لمیٹڈ کے جائز انکم ٹیکس ریفنڈز روکے جانے کے معاملے پر بھی بریفنگ دی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ دونوں کمپنیوں کے زیر التواء ریفنڈز 15 روز کے اندر جاری کر دیئے جائیں گے۔
کمیٹی نے ٹیکس سے مستثنی سابق قبائلی علاقہ جات فاٹا/ پاٹا میں قائم فیکٹریوں کو فراہم کیے گئے 1.2 ٹریلین روپے مالیت کے خام مال سے متعلق کھپت کے سرٹیفکیٹس کے اجراء میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی زیر بحث لایا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایکس فاٹا اور پاٹا کے ٹیکس سے مستثنی علاقوں سے متعلق تمام معاملات کو آئندہ اجلاسوں میں ایک ہی ایجنڈے کے تحت زیر بحث لایا جائے گا۔







