ایس ای سی پی نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا۔ ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی فنانشل مارکیٹس کو عالمی پائیدار مالیاتی نظام سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کی فنانشل مارکیٹ کے لئے تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی پائیدار سرمایہ …

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا۔ ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی فنانشل مارکیٹس کو عالمی پائیدار مالیاتی نظام سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کی فنانشل مارکیٹ کے لئے تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی پائیدار سرمایہ کاری کے راستے کھلیں گےاور امید ہے کہ اس سے ملک کے طویل مدتی اقتصادی استحکام اور پائیداری کے اہداف کو مدد ملے گی۔ پاکستان کے لئے ای ایس جی کی اہمیت فوری بھی ہے اور سٹریٹجک بھی۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستان کو ماحولیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے دنیا کے سرفہرست دس ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

پائیدار سرمایہ کاری دنیا بھر میں جدید دور کی کیپٹل مارکیٹ انویسٹمنٹ کی ایک نمایاں خصوصیت بن چکی ہے جہاں پائیدار سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کے تحت زیرِ انتظام اثاثے 16 ٹریلین امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ میوچل فنڈز کے سرمایہ کار اب تیزی سے ایسے مواقع تلاش کر رہے ہیں جو مالیاتی منافع کے ساتھ ساتھ ای ایس جی کے اصولوں پر بھی پورے اترتے ہوں۔ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک کے تحت، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیاں ای ایس جی پر مرکوز ایسے میوچل فنڈز قائم کر سکتی ہیں جو بنیادی طور پر ان کاروباروں اور فنانشل اِنسٹرومنٹس میں سرمایہ کاری کریں گے جو مضبوط ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے طریقوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایکویٹی پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں گے جو پاکستان سٹاک ایکسچینج کے سسٹین ایبلٹی انڈیکس اور ایس ای سی پی کی ای ایس جی ڈِسکلوژَر گائیڈ لائنز کے مطابق ہوں گی۔

دوسری طرف، ڈیٹ پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز پاکستان کی گرین ٹیکسونومی اور سسٹین ایبل فنانس فریم ورک کے مطابق گرین، سوشل اور پائیداری سے منسلک ڈیٹ آلات میں سرمایہ کاری کریں گے۔ یہ فریم ورک پاکستانی کمپنیوں کو اپنی ای ایس جی کارکردگی کو مضبوط بنانے کی ترغیب دیتا ہے، جس سے ای ایس جی میوچل فنڈز میں ان کی شمولیت کی اہلیت بڑھے گی اور پائیدار سرمایہ کاری کے سرمائے تک ان کی رسائی بہتر ہوگی۔ ایسا کرنے سے، یہ بیک وقت ذمہ دارانہ کارپوریٹ طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دیتا ہے، اور نجی سرمائے کو ماحولیاتی طور پر پائیدار اور سماجی طور پر ذمہ دارانہ اقتصادی سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مارکیٹ کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے، فریم ورک میں اہم حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے لئے لازم ہوگا کہ وہ اپنے خالص اثاثوں کا کم از کم 50فیصد ای ایس جی کے مطابق سرمایہ کاری میں لگائیں اور گورننس، ڈِسکلوژَر، اور اِنڈیپینڈینٹ اَشورینس کی ضروریات کی تعمیل کریں۔ ای ایس جی حکمت عملیوں کے تحت ایکویٹی اور ڈیٹ سکیورٹیز کی یہ درجہ بندی ‘گرین واشنگ’ کے خلاف معتبر تحفظ فراہم کرتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو محفوظ رکھتی ہے، مارکیٹ کی ساکھ کو سہارا دیتی ہے، اور شفافیت و احتساب کو فروغ دیتی ہے۔

یہ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک ایس ای سی پی کے سسٹین ایبلٹی ریگولیٹری روڈ میپ میں ایک اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل کیے گئے اقدامات میں لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ای ایس جی ڈِسکلوژَر گائیڈ لائنز کا تعارف، آئی ایف آر ایس سسٹین ایبلٹی ڈِسکلوژَر اسٹینڈرڈز کا نفاذ، ‘ای ایس جی سسٹین پلیٹ فارم’ کی تیاری، اور پاکستان کی گرین ٹیکسونومی کو آگے بڑھانا شامل ہے۔ ان تمام اقدامات نے مل کر پائیدار مالیات کے لئے ایک مضبوط ریگولیٹری نظام قائم کیا ہے جس سے پاکستان ذمہ دارانہ اور پائیدار سرمایہ کاری کے لئے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔

 

مزید خبریں