پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی نے سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے پہلے بیچ کا باقاعدہ آغاز کر دیا

پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی)نے اپنے سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے پہلے بیچ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے لئے موصول ہونے والی 5 ہزار 388 درخواستوں میں سے 150 انٹرنز کا انتخاب کیا گیا۔افتتاحی اورینٹیشن سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سینئر ایڈوائزر ایمریٹس بریگیڈیئر (ر) محمد یٰسین نے کہا کہ یہ انٹرن شپ نوجوان محققین کےلئے ایک …

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی)نے اپنے سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے پہلے بیچ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے لئے موصول ہونے والی 5 ہزار 388 درخواستوں میں سے 150 انٹرنز کا انتخاب کیا گیا۔افتتاحی اورینٹیشن سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے سینئر ایڈوائزر ایمریٹس بریگیڈیئر (ر) محمد یٰسین نے کہا کہ یہ انٹرن شپ نوجوان محققین کےلئے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنی تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ساتھ ابلاغ، قائدانہ صلاحیت اور دیگر مہارتوں کو بھی فروغ دیں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور چھ ہفتوں پر مشتمل اس پروگرام سے پالیسی تحقیق، مختلف شراکت داروں سے روابط اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے عملی تجربات حاصل کریں۔ڈائریکٹر ایس ڈی سی یونٹ عظمیٰ طارق ہارون نے انٹرنز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام صرف نوجوانوں کے سیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایس ڈی پی آئی بھی ان کے نئے خیالات، تخلیقی سوچ اور منفرد نقطہ نظر سے استفادہ کرتا ہے۔ انہوں نے انٹرنز کو آئندہ 29ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں کانفرنس کے انتظام، پالیسی سازی کے عمل اور قومی و بین الاقوامی ماہرین سے براہ راست سیکھنے کا قیمتی موقع ملے گا۔

ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ یہ انٹرن شپ سیکھنے کا منفرد تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات نئے خیالات کو جنم دیتی ہیں جبکہ تھنک ٹینکس انہی خیالات کو قابل عمل عوامی پالیسیوں میں ڈھالتے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی انسانی ذہانت اور تنقیدی سوچ کا متبادل نہیں بلکہ معاون ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پہلے اپنی سوچ اور تجزیہ تشکیل دینے کے بعد اے آئی کو معاون آلے کے طور پر استعمال کریں ۔ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ پروگرام رومیلہ قمر نے بتایا کہ انتخاب کا پورا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی، جامع اور ملک گیر نمائندگی کا حامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ موصول ہونے والی درخواستوں میں سے 95.3 فیصد اہل قرار پائیں جبکہ صرف 2.8 فیصد امیدواروں کو چھ ہفتے کے پروگرام کےلئے منتخب کیا گیا جو اس پروگرام میں سخت مقابلے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مجموعی درخواستوں میں 51.3 فیصد خواتین اور 48.6 فیصد مرد امیدوار شامل تھے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ، خلیجی ممالک، شمالی امریکہ اور یورپ سمیت 40 سے زیادہ ممالک سے بھی درخواستیں موصول ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ منتخب ہونے والے 150 انٹرنز میں 49 فیصد ایم فل سکالرز شامل ہیں جبکہ پی ایچ ڈی، ماسٹرز اور انڈر گریجویٹ طلبہ بھی اس بیچ کا حصہ ہیں۔ منتخب انٹرنز میں 54.7 فیصد خواتین اور 45.3 فیصد مرد شامل ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے کیپیسٹی بلڈنگ اینڈ لیڈرشپ ڈویلپمنٹ (سی ایل ڈی) پروگرام سے وابستہ شاہد منہاس نے کہا کہ ادارے کا بنیادی مقصد تحقیق، پالیسی وکالت اور استعداد کار میں اضافہ ہے۔

انہوں نے انٹرنز کو مشورہ دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔شاہد منہاس نے بتایا کہ انٹرنز اہم نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں گے جن میں یوم آزادی کی تقریبات، بوٹ کیمپس، پوسٹر مقابلے، سپیڈ ریڈنگ سیشنز، کتابوں اور فلموں پر تبصرے شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شرکت کے لئے نمبر مختص ہوں گے جو انٹرن شپ سرٹیفکیٹ کی مجموعی کارکردگی میں شامل کیلئے جائیں گے جبکہ پوسٹر مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے انٹرنز کو اضافی اسناد بھی دی جائیں گی۔ایس ڈی پی آئی کے ہیڈ آف انرجی یونٹ، عبید الرحمٰن ضیاءنے انٹرنز کو پروگرام کے خدوخال بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت کے دوران پالیسی تحریر اور ڈیٹا کے تجزیے میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور ذمہ دارانہ استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اے آئی ٹولز استعمال کرنے والے انٹرنز کواپنی اسائنمنٹس میںاستعمال کئے گئے ٹولز، دی گئی ہدایات (پرامپٹس) اور ان کے استعمال کا مقصد بطور حوالہ واضح کرنا ہوگا۔آخر میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے منتخب انٹرنز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنز کا انتخاب ایک انتہائی سخت اور منصفانہ عمل کے ذریعے کیا گیا ہے اس لئے انہیں اپنے وقت اور مواقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے انٹرنز پر زور دیا کہ وہ ادارے کی محنت، لگن اور تیز رفتار کام کرنے کی روایت کو اپنائیں اور تحقیق و وکالت سے وابستہ ماہرین کی رہنمائی سے بھرپور فائدہ حاصل کریں۔