چیئرمین سید مسرور احسن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس ، آئل سیڈ سیکٹر کا جائزہ، خوردنی تیل کا درآمدی انحصار کم کرنے کے اقدامات پر زور

چیئرمین سید مسرور احسن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس ، آئل سیڈ سیکٹر کا جائزہ، خوردنی تیل کا درآمدی انحصار کم کرنے کے اقدامات پر زور

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت بدھ کو منعقد ہوا جس میں پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ (پی او ڈی ) کی کارکردگی، مستقبل کی حیثیت اور ملکی سطح پر اس شعبے کی اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کمیٹی اراکین نے پاکستان میں خوردنی تیل کی بڑھتی ہوئی درآمدات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں تیلدار اجناس کی مقامی پیداوار بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کے لئے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر عبد الواسع، سینیٹر شہادت اعوان، سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن نے آئل سیڈ سیکٹر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تیلدار اجناس ایک اہم فصل ہے اور پاکستان کو خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فی کس سالانہ گھی اور خوردنی تیل کا استعمال تقریباً 17 کلوگرام ہے جس کے باعث مقامی پیداوار کا فروغ قومی معیشت اور غذائی تحفظ کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر بشارت حسین شاہ نے کمیٹی کو ادارے کی کارکردگی اور آئل سیڈ سیکٹر کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 2011 میں سورج مکھی کی کاشت 11 لاکھ ایکڑ رقبے پر ہوتی تھی تاہم زراعت کی صوبوں کو منتقلی کے بعد یہ رقبہ کم ہو کر تقریباً ایک لاکھ 71 ہزار ایکڑ رہ گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی سطح پرتیلدار اجناس کی پیداوار میں اضافے کے لئے 2019 میں نیشنل آئل سیڈ انہانسمنٹ پروگرام شروع کیا گیا۔سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت صوبائی معاملہ ہونے کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے یکم جنوری 2025 سے پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم تیلدار اجناس کی قومی اہمیت کے پیش نظر وزارت نے وفاقی کابینہ کو ادارے کے تسلسل کے لئے سمری بھجوا دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2011 میں اختیارات کی منتقلی کے بعد ادارے کا کردار محدود ضرور ہوا لیکن ختم نہیں کیا گیا۔ وزارت اس وقت بھی قومی سطح پر آئل سیڈ پیداوار بڑھانے کے پروگرام پر عملدرآمد کر رہی ہے جبکہ ادارے کی بڑی توجہ زیتون کی کاشت کے فروغ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگرامز کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج پوٹھوہار، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں۔سینیٹر شہادت اعوان نے ادارے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد اسے جاری رکھنے کی وجہ واضح کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اداروں کے پاس مناسب وسائل نہ ہونے کے باعث وہ مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ اجلاس میں صوبوں کو بھی مدعو کر کے اس معاملے پر بریفنگ لی جائے۔

سیکرٹری عامر احمد علی نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور قومی سطح کے منصوبوں کو جاری رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے نے ملک میں زیتون اور تل کی کاشت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن نے کہا کہ ہر معاملے کو 18ویں آئینی ترمیم سے جوڑنے کے بجائے عملی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی نے زیتون کی کاشت کے فروغ اور ملائیشیا نے پام آئل کے شعبے میں پاکستان کی معاونت کی، تاہم ان منصوبوں کو مستقل بنیادوں پر جاری نہ رکھا جا سکا۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کا سالانہ خوردنی تیل درآمدی بل 5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جو مقامی پیداوار میں اضافہ نہ ہونے کی صورت میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق 2020 سے 2026 کے دوران وفاقی حکومت نے آئل سیڈ پیداوار بڑھانے کے لئے 4 ارب روپے مختص کئے جبکہ اسی عرصے میں مقامی پیداوار سے ملکی معیشت کو تقریباً 364 ارب روپے کے فوائد حاصل ہوئے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں گزشتہ دس سال سے تیلدار اجناس پر درآمدی ڈیوٹی صرف 3 فیصد رہی ہے جبکہ بھارت میں یہی شرح 36 فیصد ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ پام آئل کی درآمد پر پاکستان میں 10 ہزار روپے فی ٹن ڈیوٹی عائد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح ایک لاکھ 6 ہزار روپے فی ٹن ہے۔

اسی طرح کینولا کی درآمد پر پاکستان میں 6 ہزار 864 روپے فی ٹن جبکہ بھارت میں 49 ہزار 442 روپے فی ٹن ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہدایت کی کہ گزشتہ تین سال کے دوران خوردنی تیل کی درآمدات کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں تاکہ ملکی درآمدی انحصار اور مستقبل کی پالیسی کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی اور مقامی آئل سیڈ پیداوار میں اضافہ قومی ترجیح ہونی چاہئے تاکہ غذائی تحفظ کو مضبوط اور ملکی معیشت پر درآمدات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔