ایس ای سی پی کی جانب سے جنوری 2026ء میں تین نئی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹ) سکیموں کی رجسٹریشن کی منظوری

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹ) کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے اپنے عزم کے تسلسل میں جنوری 2026ء کے دوران تین نئی ریٹ سکیموں کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے۔پیر کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نظرثانی شدہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ریگولیشنز 2022(دی ریگولیشنز) …

اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹ) کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے اپنے عزم کے تسلسل میں جنوری 2026ء کے دوران تین نئی ریٹ سکیموں کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے۔پیر کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نظرثانی شدہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ریگولیشنز 2022(دی ریگولیشنز) کے تحت دو نئی رینٹل ریٹ سکیموں اور ایک نئی انویسٹمنٹ بیسڈ ریٹ سکیم کی منظوری کے بعد رجسٹرڈ ریٹ سکیموں کی مجموعی تعداد28 ہو گئی ہے۔

رینٹل ریٹ سکیموں کا قیام کرایہ پر دی جانے والی رئیل اسٹیٹ منصوبہ جات میں سرمایہ کاری کے لیے فنڈز جمع کرنے کے مقصد سے کیا جاتا ہے جبکہ انویسٹمنٹ بیسڈ ریٹ سکیمیں سرمایہ کاروں کو ایسے فنڈ میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتی ہیں جس کا مقصد اپنی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری سے کیپیٹل گینز حاصل کرنا ہوتا ہے۔ حالیہ منظوری کے بعد یہ ریٹ سکیمیں مستند سرمایہ کاروں بشمول مالیاتی اداروں، کارپوریٹس، انشورنس کمپنیوں اور ہائی نیٹ ورتھ افراد سے فنڈز اکٹھا کرنے کی اہل ہیں۔

حال ہی میں ترمیم شدہ ریٹ ریگولیشنز کے تحت جن کا مقصد ابتدائی لسٹنگ کے فروغ کے لیے واضح ٹائم لائنز کا تعین اور ریٹس کو بطور ایک قابل عمل کیپیٹل مارکیٹ ایسٹ کلاس کے طور پر مضبوط بنانا ہے، رینٹل اور انویسٹمنٹ بیسڈ ریٹ سکیموں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کی ریٹ سکیم کے نام منتقلی کی تاریخ سے ایک سال کے اندر اندر لازمی طور پر لسٹنگ کی جائے۔

گزشتہ چند برسوں میں ریٹ شعبے نے نمایاں اور مستحکم ترقی کا مظاہرہ کیا ہے جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اجراء کنندگان اور سرمایہ کاروں دونوں کی جانب سے ریٹ سٹرکچر کو تیزی سے ترجیح دی جا رہی ہے۔ ریٹس میں یہ بھرپور صلاحیت موجود ہے کہ وہ بہتر دستاویزی نظام، رسمی و منظم ڈھانچے، مضبوط گورننس اور شفافیت نیز سرمایہ کاروں کے تحفظ کے موثر طریقہ کار کے ذریعے پاکستان کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرواتے ہوئے اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں۔