پاکستان نے خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کرلی، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی خواتین کے لیے جامع اور قابلِ رسائی انشورنس مارکیٹ کے قیام سے متعلق مجوزہ پالیسی نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ عالمی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔
ایس ای سی پی کی خواتین کے لیے جامع انشورنس مارکیٹ کی مجوزہ پالیسی عالمی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرگئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کرلی، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی خواتین کے لیے جامع اور قابلِ رسائی انشورنس مارکیٹ کے قیام سے متعلق مجوزہ پالیسی نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ عالمی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔منگل کو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ویمنز ورلڈ بینکنگ کے زیر اہتمام پروگرام میں 16 ممالک کی ٹیموں کی شرکت کے دوران پیش کی گئی پاکستانی پالیسی کو اس کی جدت، قابلِ عمل ہونے، وضاحت اور خواتین کی مالی شمولیت پر ممکنہ مثبت اثرات کے باعث عالمی ماہرین نے بہترین قرار دیا۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سعید بزنس سکول میں منعقد ہونے والے ویمنز ورلڈ بینکنگ کے اس پروگرام میں پاکستان کے علاوہ بھارت، انڈونیشیا، مصر، نائجیریا، مراکش اور آرمینیا سمیت 16 ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی اور خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے لیے اپنی مجوزہ پالیسیاں پیش کیں۔ مالیاتی اور معاشی ماہرین کی جانب سے پالیسی تجاویز کے جائزے کے بعد ایس ای سی پی کی مجوزہ پالیسی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ایس ای سی پی کی نمائندگی ڈائریکٹر نان لائف انشورنس محمد ارشد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر صوفیہ ربنواز نے کی۔یہ ایوارڈ مجوزہ پالیسی کی وضاحت، جدت، قابل عمل ہونے اور خواتین کی مالی شمولیت پر ممکنہ اثرات کے اعتراف میں دیا گیا۔ ایس ای سی پی کی مجوزہ پالیسی کا مقصد خواتین کی مالی مشکلات اور منسلک رسک کو کم کرنے کے لیے جامع، قابل رسائی اور خواتین کی ضروریات کے مطابق انشورنس مارکیٹ کو فروغ دینا ہے۔
اس مقصد کے لیے موزوں انشورنس مصنوعات، ڈیجیٹل ذرائع، مؤثر ڈسٹری بیوشن چینلز اور صارفین کے بہتر تحفظ پر توجہ دی جائے گی۔پاکستان کی تقریباً نصف آبادی، یعنی لگ بھگ 11 کروڑ 70 لاکھ خواتین، رسمی انشورنس سہولت سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ مجوزہ پالیسی کے تحت انشورنس کمپنیوں کو خواتین کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ کم از کم دو انشورنس مصنوعات متعارف کرانے کا پابند بنانے کی تجویز ہے۔ابتدائی طور پر اس پالیسی سے تقریباً 15 لاکھ موجودہ خواتین لائف انشورنس پالیسی ہولڈرز کے لیے انشورنس خدمات بہتر بنانے کا ہدف ہےجبکہ گروپ لائف، ہیلتھ، ایکسیڈنٹ اور مائیکرو انشورنس سکیموں سے مستفید ہونے والی خواتین بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہوں گی۔
پالیسی کے مسودے کا اس وقت جائزہ لیا جا رہا ہے اور عمل درآمد سے قبل اسے عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا جائے گا۔ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ یہ عالمی اعزاز جامع انشورنس کے فروغ کے لیے ایس ای سی پی کی پالیسی سمت کی توثیق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا مقصد خواتین کے لیے موزوں مصنوعات اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے انشورنس تک رسائی بڑھانا اور صارفین کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔








