ایس ای سی پی کی پاکستان میں شعبہ صحت کے نظام پر رپورٹ جاری

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی )نے پاکستان میں شعبہ صحت کے نظام کے حوالہ سے ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر ہیلتھ انشورنس کے کردار کے ساتھ ساتھ صحت کے نظام کی موجودہ صورتحال، متعلقہ فریقین، مارکیٹ کے رجحانات اور کارکردگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔مزید برآں ،رپورٹ میں اہم چیلنجز کی نشاندہی بھی کی …

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی )نے پاکستان میں شعبہ صحت کے نظام کے حوالہ سے ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر ہیلتھ انشورنس کے کردار کے ساتھ ساتھ صحت کے نظام کی موجودہ صورتحال، متعلقہ فریقین، مارکیٹ کے رجحانات اور کارکردگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔مزید برآں ،رپورٹ میں اہم چیلنجز کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو صحت کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق اگرچہ صحت کا شعبہ حکومتِ پاکستان کی ترجیح ہے جیسا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 38 میں بھی درج ہے اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس جی ڈیز) میں بھی تسلیم شدہ ہے تاہم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او )کے گلوبل ہیلتھ اخراجات ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں صحت پر ذاتی خرچ سب سے زیادہ ہے۔پاکستان میں 47 فیصد صحت کا خرچ عوام اپنی جیب سے ادا کرتی ہے جو سری لنکا (40 فیصد)، ملائیشیا (38 فیصد)، چین اور انڈونیشیا کے(33 فیصد)سے کہیں زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ صحت انشورنس کے شعبے کی ترقی ایس ای سی پی کے پانچ سالہ سٹریٹجک منصوبے "انشورڈ پاکستان کی جانب سفر” کا ایک اہم عملی نتیجہ ہے جو دسمبر 2023 میں شروع کیا گیا تھا۔رپورٹ میں صحت انشورنس کے شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے متعدد چیلنجز اور مخصوص مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے اور بین الاقوامی بہترین مثالوں کی روشنی میں یہ رپورٹ ایک سٹریٹجک روڈ میپ پیش کرتی ہے جو مختلف اصلاحاتی پہلوؤں پر مبنی ہے جن میں پراڈکٹ میں جدت اور شمولیت، نظم و نسق اور عملدرآمد، قیمتوں کے تعین اور انڈر رائٹنگ، نگرانی اور جائزہ اور نجی شعبے کی شمولیت کے ساتھ ویلیو بیسڈ ہیلتھ انشورنس نظام کی تشکیل بھی شامل ہے۔اس حوالہ سے اپنے پیغام میں ایس ای سی پی کے چیئرپرسن عاکف سعید نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیےخاص طور پر پرائمری ہیلتھ کیئر کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کے ساتھ ملا کر تمام نظام کو آپس میں مربوط کرنا ضروری ہے جس کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کی شراکت اہم ہے۔کمشنر انشورنس مجتبیٰ اے لودھی نے کہا کہ صحت کے شعبے میں پائیدار اور مکمل بہتری کے لیے ایک ایسی قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں تمام متعلقہ ادارے اور افراد شامل ہوں اور اس کی مکمل ذمہ داری بھی لیں۔رپورٹ ایس ای سی پی کی آفیشل ویب سائٹ پ بھی دستیاب ہے۔