ایشیائی ترقیاتی بینک نے بلوچستان میں ریکوڈک کاپروگولڈ مائن منصوبے کے لیے مالیاتی پیکج کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک نے بلوچستان میں ریکوڈک کاپروگولڈ مائن منصوبے کے لیے مالیاتی پیکج کی منظوری دےدی ،اس میں 300 ملین ڈالر کے ابتدائی قرضے اوربلوچستان حکومت کے حصے کی سرمایہ کاری یقینی بنانے کےلئے 110 ملین ڈالر کی جزوی کریڈٹ گارنٹی شامل ہے، منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے اہم سنگ میل بلکہ دنیا بھر میں اہم معدنیات کی بڑھتی طلب پوری کرنے …

اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک نے بلوچستان میں ریکوڈک کاپروگولڈ مائن منصوبے کے لیے مالیاتی پیکج کی منظوری دےدی ،اس میں 300 ملین ڈالر کے ابتدائی قرضے اوربلوچستان حکومت کے حصے کی سرمایہ کاری یقینی بنانے کےلئے 110 ملین ڈالر کی جزوی کریڈٹ گارنٹی شامل ہے، منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے اہم سنگ میل بلکہ دنیا بھر میں اہم معدنیات کی بڑھتی طلب پوری کرنے میں بھی مددگار ہوگا۔

اے ڈی بی کی جمعے کوجاری پریس ریلیز کے مطابق بینک کے صدر مساتو کاندا نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے سے نہ صرف عالمی سطح پر اہم معدنیات کی سپلائی چین بلکہ ماحول دوست توانائی کی طرف منتقلی اور ڈیجیٹل جدت کو آگے بڑھانے میں بھی مدد ملے گی ، یہ منصوبہ پاکستان کے لیے بھی گیم چینجر ہے جس سے معیاری روزگار کی فراہمی اور معیشت کو زیادہ متنوع اور مضبوط بنانے میں معاونت ہوگی۔ بینک منصوبے کے پہلے مرحلے میں مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں میں شامل ہے، معاونت میں 300 ملین ڈالر کی ابتدائی قرضے اوربلوچستان حکومت کے حصے کی سرمایہ کاری یقینی بنانے کےلئے 110 ملین ڈالر کی جزوی کریڈٹ گارنٹی شامل ہے ،یہ منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگا۔

پہلے مرحلے میں ریکوڈک سے سالانہ اوسطاً 8 لاکھ ٹن تانبا پیدا ہوگا اور مکمل ہونے پر یہ دنیا کی پانچویں بڑی کاپر مائن ہوگی۔ تانبا توانائی کی منتقلی اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسے برقی گاڑیوں، بیٹریوں، سمارٹ فونز، ڈیٹا سینٹرز اور قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک مائن سے ہزاروں روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے ، مقامی معیشت کو تقویت اور صحت و تعلیم سمیت سماجی ترقیاتی کے پروگراموں میں معاون ہوگی بالخصوص خواتین کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

ریکوڈک مائننگ کمپنی مشترکہ منصوبہ ہے جس میں بیرک مائننگ کارپوریشن کے پاس 50 فیصد، بلوچستان حکومت کے پاس 25 فیصد جبکہ وفاقی حکومت کی تین سرکاری اداروں کے پاس مجموعی طور پر 25 فیصد حصص ہیں، منصوبے پر ابتدائی کام رواں سال شروع ہو چکا ہے جبکہ تانبے کی پیداوار 2028 کے آخر تک متوقع ہے۔ مائن کی متوقع عمر کم از کم 37 سال ہوگی اور اسے سخت ماحولیاتی، سماجی اور گورننس معیارات کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔

منصوبہ بینک کی نئی "کریٹیکل منرلز ٹو مینوفیکچرنگ ویلیو چینز” حکمتِ عملی کے تحت منظور ہونے والا پہلا مائننگ پراجیکٹ ہے جس کا مقصد خطے کو توانائی اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم معدنیات کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب سے فائدہ پہنچانا ہے۔

مزید خبریں