ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے نئی شراکت داری حکمتِ عملی کا اجراکردیا، نجی شعبے کی قیادت میں ملک کو پائیدار اور جامع معاشی نمو کی جانب لے جانے کے لیے واضح لائحہ عمل پیش

اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے نئی شراکت داری حکمتِ عملی 30-2026کا اجراءکردیاہے جس میں نجی شعبے کی قیادت میں ملک کو پائیدار اور جامع معاشی نمو کی جانب لے جانے کے لیے ایک واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پانچ سالہ حکمتِ عملی نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے ، شمولیت اور …

اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے لیے نئی شراکت داری حکمتِ عملی 30-2026کا اجراءکردیاہے جس میں نجی شعبے کی قیادت میں ملک کو پائیدار اور جامع معاشی نمو کی جانب لے جانے کے لیے ایک واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پانچ سالہ حکمتِ عملی نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے ، شمولیت اور بااختیاری کو آگے بڑھانے اور لچک و پائیداری کو مضبوط بنانے کے تین بنیادی سمتوں پر مرکوز ہوگی، ان ترجیحات کو بہتر طرز حکمرانی اور ادارہ جاتی مضبوطی، صنفی مساوات و سماجی شمولیت، ڈیجیٹل تبدیلی اور علاقائی تعاون و انضمام جیسے ہمہ جہتی موضوعات کے ذریعے تقویت دی جائے گی۔ پاکستان میں اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایمافن نے بتایا کہ کہ یہ نئی حکمتِ عملی پاکستان کو درپیش ڈھانچہ جاتی مسائل کے حل اور مضبوط و دیرپا معاشی ترقی کے فروغ کے لیے ترتیب دی گئی ہےجس کے ثمرات پورے ملک خصوصاً غریب اور معاشی طورپرکمزور طبقات تک پہنچیں گے۔

اس سے اہم شعبوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور اصلاحات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددملے گی۔انہوں نے کہاکہ اے ڈی بی اس جامع ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان نے بیرونی دھچکوں کے سلسلے کے بعد اپنی کلی معیشیت کی صورتحال کو مستحکم کیا ہے اور اہم ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔

یہ حکمتِ عملی اسی بدلتے ہوئے تناظر کے مطابق برآمدات اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کو فروغ دینے پر زور دیتی ہےجسے بہتر عوامی مالیاتی نظم، کاروبار دوست ماحول اور اعلیٰ اثرات کے حامل شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے تقویت دی جائے گی۔ بینک کی نئی حکمتِ عملی میں نجی شعبے کی ترقی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اے ڈی بی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ذریعے ضابطہ جاتی اور تعمیلی بوجھ کم کرے گا،بنیادی ڈھانچہ کو بہتر بنایاجائے گا، مالی وسائل تک رسائی بڑھائے جائے گی،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے گا اور اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کو وسعت دی جائےگی۔

اسی کے ساتھ حکمتِ عملی میں اہم شعبوں میں انقلابی مواقع کی نشاندہی بھی کی گئی ہےجن میں اہم معدنیات، ریلوے اور ملٹی ما ڈل رابطہ کاری، توانائی کی سلامتی اور صاف توانائی، زرعی پیداوار اور ویلیو چینز، مربوط آبی وسائل کا انتظام اور ہنر مندی و روزگار شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اے ڈی بی پاکستان میں جامع اور مربوط حل متعارف کرائے گاجن میں پالیسی اصلاحات، خودمختار و غیر خودمختار مالی معاونت، تکنیکی امداد اور علمی معاونت شامل ہوں گی۔ شمولیت اور بااختیاری کے فروغ کے لیے انسانی سرمائے کو مضبوط بنانے، معیاری سماجی خدمات تک رسائی بڑھانے اور خواتین کی معاشی شرکت کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

بیان کے مطابق پاکستان کو شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے خطرات لاحق ہیں، اس لیے لچک اور پائیداری اس حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ بینک آفات سے نمٹنے کے نظام،موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور اس کے اثرات میں کمی، سیلاب اور آبی وسائل کے مربوط انتظام، زرعی ویلیو چینز اور غذائی تحفظ اور فضائی آلودگی میں کمی سے متعلق اقدامات کی معاونت کرے گا۔ یہ حکمتِ عملی پاکستان کے نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان 29-2024 اور اے ڈی بی کی سٹریٹجی 2030 مڈ ٹرم ریویو کے ساتھ ہم آہنگ ہےجو مضبوط معاشی ترقی، سماجی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کے مشترکہ اہداف کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اے ڈی بی عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کو بھی فروغ دے گا تاکہ ترقیاتی اثرات کو زیادہ سے زیادہ بنایا جا سکے۔