پاکستان کرکٹ ٹیم کی بہتری کیلئے جاوید میانداد کو اہم ذمہ داری دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ عرصے میں بیٹنگ،بائولنگ اور فیلڈنگ سمیت مختلف شعبوں میں کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے سابق کرکٹرز،سینئر کھلاڑیوں،صحافیوں اور شائقین کرکٹ کی جانب سے پاکستان کے عظیم ترین بلے بازوں میں شمار ہونے والے جاوید میانداد کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں اہم ذمہ داری سونپنے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے

لاہور۔6جون (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ عرصے میں بیٹنگ،بائولنگ اور فیلڈنگ سمیت مختلف شعبوں میں کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے سابق کرکٹرز،سینئر کھلاڑیوں،صحافیوں اور شائقین کرکٹ کی جانب سے پاکستان کے عظیم ترین بلے بازوں میں شمار ہونے والے جاوید میانداد کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں اہم ذمہ داری سونپنے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ اس وقت ایک ایسے تجربہ کار اور باصلاحیت کرکٹ دماغ کی ضرورت محسوس کر رہی ہے جو نہ صرف کھیل کی باریکیوں سے واقف ہو بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ان کے مطابق جاوید میانداد اس حوالے سے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ جاوید میانداد کا شمار دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران نہ صرف پاکستان کو متعدد یادگار فتوحات دلائیں بلکہ اپنی غیرمعمولی قائدانہ صلاحیتوں اور کرکٹ فہم سے بھی دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ان کی جارحانہ لیکن دانشمندانہ بیٹنگ،میچ کے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت اور نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کا وسیع تجربہ پاکستان کرکٹ کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔شائقین نے چیئرمین پی سی بی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جاوید میانداد کو بورڈ میں مشاورتی،تکنیکی یا کرکٹ ڈویلپمنٹ سے متعلق اہم ذمہ داری سونپیں تاکہ قومی ٹیم کی خامیوں کو دور کرنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں ان کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔واضح رہے کہ جاوید میانداد نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں بے شمار ریکارڈ قائم کیے۔وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ کامیاب اور مستقل مزاج بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔1986 میں بھارت کے خلاف آخری گیند پر چھکا لگا کر ایشیا کپ جتوانے کا ان کا تاریخی کارنامہ آج بھی کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ان کی خدمات اور تجربے کو دنیا بھر کے کرکٹ ماہرین قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔کرکٹ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر جاوید میانداد جیسے لیجنڈ کو قومی کرکٹ کے نظام میں فعال کردار دیا جائے تو اس سے نہ صرف قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ایک عظیم کرکٹر کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملے گا،جو مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے مثبت نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔