پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) ریئسہ عادل نے کہا ہے کہ پاکستان انفارمیشن سروس اکیڈمی کے تعاون سے صحافیوں، بالخصوص خواتین صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے فری لانسنگ، ڈیجیٹل میڈیا، کلائمٹ رپورٹنگ اور جدید صحافتی مہارتوں سے متعلق مختلف تربیتی کورسز اور پروگرام شروع کئے جائیں گے۔
خواتین صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے تربیتی پروگرام شروع کئے جائیں گے، پی آئی او ریئسہ عادل

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) ریئسہ عادل نے کہا ہے کہ پاکستان انفارمیشن سروس اکیڈمی کے تعاون سے صحافیوں، بالخصوص خواتین صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے فری لانسنگ، ڈیجیٹل میڈیا، کلائمٹ رپورٹنگ اور جدید صحافتی مہارتوں سے متعلق مختلف تربیتی کورسز اور پروگرام شروع کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں خواتین صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جمعرات کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق پی آئی او نے کہا کہ میڈیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے، اس لئے صحافیوں کو بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے سے ہم آہنگ کرنے اور بالخصوص خواتین صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو درپیش مسائل کو متعلقہ حکام تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا اور ان کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے نیشنل پریس کلب میں خواتین صحافیوں کیلئے علیحدہ لیڈیز روم، آرام گاہ اور بچوں کیلئے ڈے کیئر سنٹر جیسی سہولیات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یقین دلایا کہ ان تجاویز کو متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے خواتین صحافیوں کیلئے ایکریڈیٹیشن کارڈ، ہیلتھ کارڈ اور ڈیجیٹل جرنلسٹس کیلئے ایکریڈیٹیشن کارڈ کے اجرا سمیت پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں خواتین صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے ویمن جرنلسٹ ہیلپ ڈیسک کے قیام کی تجاویز پر بھی غور کی یقین دہانی کرائی۔ ریئسہ عادل نے کہا کہ پرنسپل انفارمیشن آفیسر کی ذمہ داری سنبھالنا ان کیلئے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت اور میڈیا ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں، اس لئے دونوں کے درمیان اعتماد اور رابطے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام تک درست اور ذمہ دارانہ معلومات پہنچائی جا سکیں۔
انہوں نے نیشنل پریس کلب میں خواتین صحافیوں کیلئے علیحدہ لیڈیز روم، آرام گاہ اور بچوں کیلئے ڈے کیئر جیسی سہولیات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور یقین دلایا کہ وہ ان تجاویز کو متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو درپیش مسائل، جن میں ایکریڈیٹیشن کارڈز کے حصول میں مشکلات سمیت دیگر مسائل شامل ہیں، کے حل کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال اور سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے پی آئی او کی پریس کلب آمد پر ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ خواتین صحافی میڈیا کے شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم انہیں ملازمتوں کے عدم تحفظ، کم تنخواہوں، تربیتی مواقع اور کام کی جگہ پر سہولیات کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب اپنے ممبران کی استعداد کار بڑھانے کیلئے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کر رہا ہے اور حکومت سے خواتین صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے موثر اقدامات کی توقع ہے۔
فنانس سیکرٹری عابد عباسی، سابق سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیئر علی، جوائنٹ سیکرٹری سحرش قریشی، جوائنٹ سیکرٹری شکیلہ جلیل، سینئر صحافی فوزیہ کلثوم رانا اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔ بعد ازاں خواتین صحافیوں اور پی آئی او کے درمیان سوال و جواب کی نشست ہوئی، جس میں ایکریڈیٹیشن کارڈز کے حصول میں مشکلات سمیت صحافتی شعبے میں خواتین کو درپیش مختلف مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے سینئر نائب صدر احتشام الحق، نائب صدر بشیر چوہدری، سینئر جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی، جوائنٹ سیکرٹری سید عون شیرازی، ممبران گورننگ باڈی عامر رفیق بٹ، فرح ربانی، عائشہ ناز، سابق ممبر گورننگ باڈی نوید احمد شیخ، گورننگ باڈی کے ارکان اور مختلف میڈیا ہاؤسز سے وابستہ خواتین صحافیوں سمیت این پی سی کے ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کی جانب سے پی آئی او ریئسہ عادل کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔







