سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو فیڈرل فلڈ کمیشن نے بتایا ہے کہ تربیلا، چشمہ اور نوشہرہ کے مقامات پر اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے چناب میں تقریباً 275000 کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت ہوا …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال، پیشگی تیاریوں اور فیڈرل فلڈ کمیشن کے کردار کا جائزہ لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو فیڈرل فلڈ کمیشن نے بتایا ہے کہ تربیلا، چشمہ اور نوشہرہ کے مقامات پر اس وقت نچلے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے چناب میں تقریباً 275000 کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال، پیشگی تیاریوں اور فیڈرل فلڈ کمیشن کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔فیڈرل فلڈ کمیشن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے چناب پر مرالہ، دریائے جہلم میں منگلا کے بالائی علاقوں اور دریائے کابل میں بلند درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
کمیٹی کو سیلاب کی پیش گوئی، دریائوں میں پانی کے بہائو کے وقفے اور مختلف علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔کمیٹی نے بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موثر پیشگی انتباہی اور نگرانی کے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے موجودہ ڈیم سیلابی پانی کے صرف تقریباً 20 فیصد بہائو کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ ڈاؤن اسٹریم علاقوں میں آنے والے سیلاب کو ذخائر کے آپریشنز کے ذریعے مؤثر طور پر قابو نہیں کیا جا سکتا۔اجلاس میں گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے کے انتباہی نظام ، موسمیاتی ریڈارز، دریائی بہاؤ کے ماڈلز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سیلابی پیش گوئی کے نظام کے استعمال پر بھی غور کیا گیا۔
کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی اداروں کی معلومات کو یکجا کرنے والے ایک جامع اور مرکزی ڈیش بورڈ کی تیاری کی توثیق کی تاکہ بروقت نگرانی، پیشگی انتباہ اور مربوط ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں منعقد کیا جائے گا جہاں سیلاب کی نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کا جائزہ لیا جائے گا۔پنجاب اور سندھ کے محکمہ آبپاشی کے حکام نے کمیٹی کو سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں اور حساس مقامات کی نگرانی سے متعلق بریفنگ دی۔ چیئرمین کمیٹی نے پنجاب اور سندھ کے سیکریٹریز آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کریں۔ پاکستان ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ 149 حساس مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جہاں حفاظتی اقدامات اور مسلسل نگرانی کا انتظام موجود ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے محکمہ موسمیات کے حکام کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاسوں میں ان کی شرکت یقینی بنانے پر زور دیا۔ این ڈی ایم اے نے شکرگڑھ میں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعات کے بعد کیے گئے انخلا ءآپریشن سے متعلق بریفنگ بھی دی، جس میں 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ خان دھاریجو نے کہا کہ بار بار آنے والے سیلاب، پانی کی قلت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان ایک بڑھتا ہوا قومی چیلنج بن چکا ہے۔
کمیٹی نے تیاری، پیشگی انتباہی نظام، نقصانات میں کمی اور ساختی اقدامات پر مشتمل ایک جامع اور طویل المدتی فلڈ مینجمنٹ پلان تیار کرنے پر زور دیا۔ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں ماضی کے تجربات کی روشنی میں مستقبل کے لیے فلڈ کنٹرول کے روڈ میپ کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں محکمہ موسمیات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور دیگر متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔اجلاس میں سینیٹرز خلیل طاہر، پونجو بھیل، اسد قاسم، محمد اسلم ابڑو سمیت دیگر نے شرکت کی۔







