22.6 C
Islamabad
پیر, ستمبر 1, 2025
ہومقومی خبریںایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و...

ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس، متاثرین کیلئے فوری ریلیف سرگرمیوں کے ضمن میں 3 ملین ڈالر مالیت کی ہنگامی امدادی گرانٹ کااعلان

- Advertisement -

اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر مساتو کانڈا نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لئے فوری ریلیف سرگرمیوں کے ضمن میں 3 ملین ڈالر مالیت کی ہنگامی امدادی گرانٹ کااعلان کیاہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت تباہ کن سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جس سے ہزاروں خاندان اور بستیاں متاثر ہوئی ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قدرتی آفت میں ایشیائی ترقیاتی بینک تیزی سے ردعمل دیتا ہے تاکہ متاثرہ کمیونٹیز کو باعزت طریقے سے دوبارہ زندگی شروع کرنے میں مدد ملے۔ اعلامیہ کے مطابق بینک کے صدر اس وقت پاکستان کے 3 روزہ دورے پر ہیں جس کے دوران انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں متاثرینِ سیلاب سے اظہارِ تعزیت کے بعد دونوں رہنماؤں نے تغیرپذیر سرمایہ کاری، نجی شعبے کی شمولیت اور پاکستان کے کردار پر بات کی کہ کس طرح ملک دنیا کے لئے صاف توانائی کی منتقلی میں اہم معدنیات کا سٹریٹجک فراہم کنندہ بن سکتاہے۔بات چیت میں ٹرانسپورٹ، توانائی، شہری ڈھانچہ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بینک کی وسیع سرمایہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔

صدر مساتو کانڈا نے پاکستان میں اصلاحات پر پیشرفت کو سراہا اور کہا کہ بڑے کریڈٹ ریٹنگ اداروں کی جانب سے سیکورٹیز کی درجہ بندی میں بہتری ملک کی اندرونی وسائل کومتحرک کرنے کا ثبوت ہے۔بات چیت میں 21 اگست کو بینک کی جانب سے ریکوڈک منصوبہ کے ضمن میں بینک کی جانب سے 410ملین ڈالر کے فنانسنگ پیکیج کی منظوری کا بھی ذکر بھی ہوا ۔ یہ منصوبہ جو دنیا کی سب سے بڑی تانبے اور سونے کی غیر ترقی یافتہ کانوں میں سے ایک ہے، پاکستان کو عالمی سطح پر صاف توانائی کے لئے درکار اہم معدنیات کا سٹریٹجک سپلائر بنا دے گا۔ یہ ایشیائی ترقیاتی بینک کا کان کنی کے شعبے میں 40برسوں کے بعد پہلا بڑا قدم ہے۔ اعلامیہ کے مطابق بینک کے صدر نے اپنے دورے میں براہِ راست کمیونٹیز اور کاروباری حلقوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے اسلام آباد میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ون ونڈو سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مستفید ہونے والوں سے گفتگو کی اور چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کے ہمراہ شکایات کے ازالے کا نیا نظام لانچ کیا۔ انہوں نے لاہور میں پاکستان کی پہلی پائیدار ایوی ایشن فیول فیکٹری کا معائنہ کیا، جوبینک کی مالی معاونت سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ فیکٹری ضائع شدہ کھانے پکانے کے تیل کو پائیدار ایندھن میں تبدیل کر کے عالمی مارکیٹ کو برآمد کرے گی۔انہوں نے مختلف سی ای اوز اور کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح بینک پاکستان میں نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھا سکتا ہے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں