اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے اینٹی کرپشن ونگ کے زیراہتمام ایف آئی اے انٹرپول گلوبل اکیڈمی میں ایک پروقار مقابلہ مباحثہ منعقد ہوا۔ ایف آئی اے اکیڈمی کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بین الجامعہ مقابلہ تھا جس میں ٹرینی انسپکٹرز اور ملک کی معروف یونیورسٹیوں کے طلباء نے حصہ لیا۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ تقریب کے مہمان خصوصی …
ایف آئی اے اکیڈمی میں تاریخ کا پہلا بین الجامعہ مقابلہ مباحثہ، اینٹی کرپشن ونگ کے زیر اہتمام کامیاب انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے اینٹی کرپشن ونگ کے زیراہتمام ایف آئی اے انٹرپول گلوبل اکیڈمی میں ایک پروقار مقابلہ مباحثہ منعقد ہوا۔ ایف آئی اے اکیڈمی کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بین الجامعہ مقابلہ تھا جس میں ٹرینی انسپکٹرز اور ملک کی معروف یونیورسٹیوں کے طلباء نے حصہ لیا۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
مقابلے کے موضوعات اور شرکاء ایئر یونیورسٹی اسلام آباد، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کی ٹیموں نے حکمرانی اور احتساب جیسے عصری موضوعات پر دلائل دئیے۔ مباحثے کے اہم موضوعات "انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین کے بجائے تفتیشی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا زیادہ اہم ہے” اور "بدعنوانی قانونی سے زیادہ ایک ثقافتی مسئلہ ہے” پر مبنی تھے۔
نتائج کی تفصیلات پہلے مباحثے میں ایئر یونیورسٹی اسلام آباد نے پہلی جبکہ ایف آئی اے اکیڈمی کی ٹیم نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ دوسرے مقابلے میں نسٹ کی ٹیم فاتح قرار پائی جبکہ نمل یونیورسٹی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ججز کے پینل میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی ڈی) مبشر حسن اور معروف ماہر تعلیم و بین الاقوامی ہائیکو شاعرہ حفصہ اشرف شامل تھیں۔
ڈی جی ایف آئی اے کا خطاب تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ "بحث کریں، غور کریں اور اصلاح کریں”۔ انہوں نے کہا کہ قومی چیلنجز پر آگاہی اور نئے تناظر تشکیل دینے کے لیے ایسی فکری سرگرمیاں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تقریب کا مقصد مستقبل کے تفتیش کاروں اور پالیسی سازوں میں تنقیدی سوچ اور پیشہ ورانہ قابلیت کو فروغ دینا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق اس طرح کی تعلیمی مصروفیات ادارے کی استعداد کار میں اضافے اور قومی مسائل پر بامقصد بحث کے کلچر کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔







