فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے ایک مؤثر کارروائی کرتے ہوئے شہری کے اکاؤنٹ سے اس کی رضا مندی کے بغیر 28 لاکھ روپے سے زائد کی رقم نکلنے کے معاملے کا ذمہ دار بینک انتظامیہ کو قرار دے دیا اور تمام رقم برآمد کروا کر متاثرہ شہری کے حوالے کر دی ہے۔
ایف آئی اے کی کارروائی،شہری کے اکاؤنٹ سے 28 لاکھ نکلنے کی ذمہ دار بینک انتظامیہ قرار، رقم برآمد کر کے شہری کو واپس دلوا دی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے ایک مؤثر کارروائی کرتے ہوئے شہری کے اکاؤنٹ سے اس کی رضا مندی کے بغیر 28 لاکھ روپے سے زائد کی رقم نکلنے کے معاملے کا ذمہ دار بینک انتظامیہ کو قرار دے دیا اور تمام رقم برآمد کروا کر متاثرہ شہری کے حوالے کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق، ایک شہری نے ایف آئی اے کو الائیڈ بینک لمیٹڈ کی افشاں کالونی برانچ راولپنڈی کے حوالے سے شکایت درج کرائی تھی کہ 15 اور 16 نومبر کی درمیانی شب مختلف آئی بی ایف ٹیز (IBFTs) اور راست کے ذریعے ان کے اکاؤنٹ سے 28 لاکھ 39 ہزار 500 روپے ان کی مرضی کے بغیر نکال لیے گئے۔ شہری کے مطابق اس خطیر رقم کے لین دین کا موبائل پر کوئی الرٹ بھی موصول نہیں ہوا، جس کے باعث وہ بروقت اس فراڈ سے آگاہ نہ ہو سکا۔شکایت ملنے پر ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے فوری تحقیقات کا آغاز کیا اور بینک حکام سے متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا۔ مکمل چھان بین اور شواہد کی روشنی میں سکیورٹی خامیوں پر بینک انتظامیہ کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جس کے بعد الائیڈ بینک کی جانب سے متاثرہ شہری کی مکمل رقم (28 لاکھ 39 ہزار 500 روپے) بازیاب کروا کر دوبارہ اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی ہے۔ایف آئی اے نے اس موقع پر عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ مالیاتی اور بینکاری فراڈ کے حوالے سے انتہائی ہوشیار رہیں اور کسی بھی قسم کے مشکوک لین دین یا فراڈ کی صورت میں فوری طور پر ایف آئی اے سے رابطہ کریں








