ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور نے نرس شکیلہ ناز کے الزامات مسترد کر دیے

ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور نے نرس شکیلہ ناز کی جانب سے پریس کانفرنس میں ہسپتال، ڈاکٹروں اور ادارے پر عائد کیے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دے دیا

پشاور۔ 24 جولائی (اے پی پی):ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور نے نرس شکیلہ ناز کی جانب سے پریس کانفرنس میں ہسپتال، ڈاکٹروں اور ادارے پر عائد کیے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دے دیا۔ایچ ایم سی پشاور تر جمان کے مطابق ہسپتال میں تمام اقدامات باقاعدہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات اور بورڈ آف گورنرز کے فیصلوں کی روشنی میں کیے گئے۔محکمہ گائنی اینڈ آبسٹیٹرکس کے ایک سینئر کنسلٹنٹ کی شکایت پر 22 ستمبر 2025 کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے تحقیقات کے بعد شکیلہ ناز کے خلاف ہسپتال کی ادویات، سرجیکل سامان اور دیگر ڈسپوزیبل اشیاء کی مبینہ خردبرد اور سینئر ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے کے الزامات کو درست قرار دیا۔ کمیٹی نے انہیں ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے فارغ کرکے محکمہ صحت خیبرپختونخوا واپس بھیجنے کی سفارش کی، جس پر عمل درآمد کیا گیا۔بعد ازاں شکیلہ ناز نے عدالت سے رجوع کیا، جہاں انہیں عبوری ریلیف ملا۔

اس کے بعد 16 مارچ 2026 کو تین رکنی نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے دوبارہ تحقیقات کے بعد سابقہ نتائج برقرار رکھتے ہوئے یہ بھی قرار دیا کہ فروری 2023 سے دسمبر 2025 تک ایک ہی شفٹ میں ڈبل ڈیوٹی ظاہر کرکے انہوں نے 31 ماہ کے دوران 7 لاکھ 41 ہزار 767 روپے بطور آئی بی پی مراعات وصول کیے، جو مالی اور انتظامی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔6 جون 2026 کو بورڈ آف گورنرز کے 52ویں اجلاس میں انکوائری رپورٹ کی منظوری دیتے ہوئے مذکورہ رقم کی ریکوری اور شکیلہ ناز کو محکمہ صحت خیبرپختونخوا واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیاتمام کارروائیاں قانون، قواعد و ضوابط اور شفاف انتظامی طریقہ کار کے مطابق کی گئیں۔ ادارہ شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر مکمل یقین رکھتا ہے، تاہم کسی بھی فرد کو بے بنیاد الزامات کے ذریعے ادارے اور اس کے طبی عملے کی ساکھ متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے بیانات پر ہتکِ عزت سمیت قانونی کارروائی کا حق بھی محفوظ ہے۔