این سی ایچ ڈی، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور یونیورسٹی آف سرگودھا کےاشتراک سے”عالمی یومِ اساتذہ” پر سیمینار

نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ سوشیالوجی اینڈ کریمینالوجی کے اشتراک سے معاشروں کی تشکیل اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی میں اساتذہ کے کلیدی کردار کو سراہنے کے لیے یونیورسٹی آف سرگودھا میں "عالمی یومِ اساتذہ” منایا گیا اور اس دن کی مناسبت سے مرکزی سیمینار اور تقریب کا اہتمام کیا گیا

سرگودھا ۔ 05 اکتوبر (اے پی پی):نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ سوشیالوجی اینڈ کریمینالوجی کے اشتراک سے معاشروں کی تشکیل اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی میں اساتذہ کے کلیدی کردار کو سراہنے کے لیے یونیورسٹی آف سرگودھا میں "عالمی یومِ اساتذہ” منایا گیا اور اس دن کی مناسبت سے مرکزی سیمینار اور تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا مقصد دُنیا بھر کے اُساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور قوم کی تعمیر میں ان کے اہم کردار کو اُجاگرکرنا تھا ۔ سیمینار میں ڈپٹی ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی مہر عمر دراز جھاوری، ڈسٹرکٹ آفیسر چائلڈ پروٹیکشن بیورو علی عابد نقوی، پروفیسر ڈاکٹر ملیحہ گل تارڑ، چیئرپرسن شعبہ سوشل ویلفیئر (یونیورسٹی آف سرگودھا) ناصر عباس، ڈاکٹر محمد ممتاز احمد، ڈاکٹر عبد الصبور (شعبہ عربی زبان و ادب)، ڈاکٹر شہزاد مشتاق (شعبہ معاشیات) ، ڈاکٹر زرقا اظہر(شعبہ سوشیالوجی اینڈ کریمینالوجی)،ڈاکٹر عمران ریاض ملک (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ بائیو ٹیکنالوجی)، ڈاکٹر افشاں ریاض (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ شماریات)، ڈاکٹر کامران بشیر (اسسٹنٹ پروفیسر فیکلٹی آف فارمیسی)، صبا ارشد (شعبہ اسپورٹس سائنس)، ارم رحمان (لیکچرار شعبہ الیکٹریکل، الیکٹرانکس اینڈ کمپیوٹر سسٹم، CET، UoS) اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور NCHD کی جانب سے کامیابی کے اعزازی ایوارڈز وصول کیے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہر عمر دراز جھاوری نے کہا کہ یونیسکو (UNESCO)، یونیسیف (UNICEF) اور دیگر عالمی تعلیمی اداروں نے 1994 سے ہر سال 5 اکتوبر کو ‘عالمی یومِ اساتذہ’ منانے کا آغاز کیا تاکہ اساتذہ کی اہم خدمات کا اعتراف کیا جا سکے اور انہیں اپنے پیشے میں درپیش چیلنجز پر بات کی جا سکے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ اس دن کو منا رہا ہے جس میں اساتذہ، طلبہ اور رہنما سبھی اساتذہ کی اہمیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ماہرینِ تعلیم نے نشاندہی کی کہ اساتذہ طلبہ کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی نشوونما، اور یوں پوری قوم کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر مقررین نے اساتذہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ استاد ہی وہ شخصیت ہے جو طلبہ کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم اور ہنر کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ استاد سے حاصل ہونے والی تعلیم و تربیت ہی معاشرے میں بچے کے مستقبل کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ اساتذہ نے خود اس بات کا اظہار کیا کہ طلبہ کی کامیابی ہی ان کا سب سے بڑا انعام ہے، جبکہ طلبہ کا کہنا تھا کہ اساتذہ نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ زندگی کی اہم اقدار بھی سکھاتے ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ڈسٹرکٹ آفیسرعلی عابد نقوی نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ اساتذہ قومی ترقی اور آنے والی نسلوں کی انفرادی نشوونما، دونوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ’عالمی یومِ اساتذہ‘ کا انعقاد ان کی خدمات کا برملا اعتراف ہے، اور یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اُساتذہ کا احترام اور وقار ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ گل نے زور دیا کہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علم اور تعلیم کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "عالمی سطح پر مقابلہ کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو تعلیم، تنقیدی سوچ اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ دن نہ صرف تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اساتذہ کے کردار کا جشن منانے کا موقع ہے، بلکہ اس بات پر غور کرنے کا بھی وقت ہے کہ اساتذہ کو ترقی اور بہتری کے لیے کس قسم کے تعاون کی ضرورت ہے، اور یہ کہ دنیا بھر میں اس پیشے کے مستقبل پر نئے سرے سے سوچ بچار کی جائے۔