ایوان کی کارروائی چلانے میں آئین اور قواعد کی قطعاً خلاف ورزی نہیں ہوئی’ اپوزیشن اس معاملے کو عدالت میں لے جانا چاہتی ہے تو لے جائے ، عدالتیں جن کو بلا رہی ہیں انہیں بھی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کاقومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ایوان کی کارروائی چلانے میں آئین اور قواعد کی قطعاً خلاف ورزی نہیں ہوئی' اس کے باوجود اپوزیشن اگر اس معاملے کو عدالت میں لے جانا چاہتی ہے تو لے جائے تاہم عدالتیں جن کو بلا رہی ہیں انہیں بھی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ بدھ کو قومی …

اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ایوان کی کارروائی چلانے میں آئین اور قواعد کی قطعاً خلاف ورزی نہیں ہوئی’ اس کے باوجود اپوزیشن اگر اس معاملے کو عدالت میں لے جانا چاہتی ہے تو لے جائے تاہم عدالتیں جن کو بلا رہی ہیں انہیں بھی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ دنیا بھر میں پارلیمنٹ کی کارروائی قواعد کے مطابق چلائی جاتی ہے۔ یہ قواعد آئین کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 55 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایوان میں کورم نہ رہے تو سپیکر کے پاس دو طریقے ہوتے ہیں ایک وہ اجلاس کی کارروائی ملتوی یا معطل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ایک گھنٹہ سے زائد وقت مقرر نہیں ہے۔ اس ایوان کو کسی کی ذاتی خواہش یا سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قانون اور قواعد کے برعکس سپیکر پر آوازیں کسی جاتی ہیں۔ آستینیں چڑھا کے ایک دوسرے کی طرف لپکا جاتا ہے تو وہی لوگ قواعد کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے قواعد و ضوابط کے قاعدہ پانچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایوان میں کورم نہ ہو تو سپیکر کو پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا اختیار ہوتا ہے۔ سپیکر اجلاس کی کارروائی معطل بھی کر سکتا ہے یا اگلے دن تک ملتوی بھی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں کہیں قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ انہوں نے قاعدہ 288 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی مرضی سے ایوان کا کوئی بھی رکن قواعد معطل کرنے کی تحریک پیش کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وہ اس معاملے پر عدالت جائیں گے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ جن کو عدالتیں بلا رہی ہیں ان کو بھی لے کر جائیں۔