اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے برٹش کونسل پاکستان کے اشتراک سے پاک برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے پروگرام کے تحت قومی ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک (آر ای ایف ) کی تیاری کے لئے پانچ روزہ مشاورتی عمل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، فریم ورک کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان میں تحقیق کے جائزے، بنچ مارکنگ اور کارکردگی کے مؤثر نظام کو مضبوط …
ایچ ای سی اور برٹش کونسل کے اشتراک سے قومی ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک پر ہفتہ وار مشاورت کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے برٹش کونسل پاکستان کے اشتراک سے پاک برطانیہ ایجوکیشن گیٹ وے پروگرام کے تحت قومی ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک (آر ای ایف ) کی تیاری کے لئے پانچ روزہ مشاورتی عمل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، فریم ورک کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان میں تحقیق کے جائزے، بنچ مارکنگ اور کارکردگی کے مؤثر نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
ایچ ای سی کے ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن (R&ID) کے زیرِ اہتمام ان مشاورتوں کے دوران برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس سے تعلق رکھنے والا چار رکنی ماہرین کا وفد جو اس اقدام کے لئے تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے، ایچ ای سی اور برٹش کونسل کی قیادت، جامعات کے سربراہان، پالیسی سازوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے تفصیلی تبادلہ خیال کرے گا تاکہ مجوزہ پالیسی فریم ورک کو حتمی شکل دی جا سکے۔
مجوزہ ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک کو ایک کلیدی دوطرفہ اقدام کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے جس کا مقصد تحقیق کے معیار، اثرات اور شفافیت کا جامع جائزہ لینا ہے تاکہ شواہد پر مبنی فنڈنگ اور عالمی مسابقت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس فریم ورک کے ذریعے تعلیمی اشتراک، معیار کی یقین دہانی، ہم آہنگی اور پاکستان کے تحقیقی ماحول کی بین الاقوامی سطح پر مسابقت میں اضافہ متوقع ہے۔
قومی ضروریات اور پالیسی اہداف کے مطابق ترتیب دیا گیا یہ فریم ورک شفاف سکورنگ، معیاری شواہد اور کوالٹی اشورنس کے طریقہ کار پر مبنی ایک متحدہ ماڈل فراہم کرے گا۔افتتاحی دن شرکاء کو ہفتہ وار سرگرمیوں، متوقع نتائج اور اہم فیصلوں کے نکات سے آگاہ کیا گیا۔ مباحثوں میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک ایک مضبوط، منصفانہ اور شفاف نظام ہونا چاہئے جو تحقیق کے معیار، تحقیقی ماحول اور سماجی اثرات کا مؤثر انداز میں جائزہ لے جبکہ ادارہ جاتی بہتری اور قومی تحقیقی ترجیحات کی بھی معاونت کرے۔
برطانوی ماہرین جن میں پروفیسر جیرمی کینتھال (ڈائریکٹر، سائنس پالیسی ریسرچ یونٹ، یونیورسٹی آف سسیکس)، پروفیسر پال نائٹنگیل (پروفیسر آف اسٹریٹیجی، یونیورسٹی آف سسیکس)، مینڈی سمانتھا کرافورڈ لی (چیف ایگزیکٹو، یونیورسٹی ووکیشنل ایوارڈز کونسل، برطانیہ) اور بریڈا ماریا موسٹریٹ (ایسوسی ایٹ کنسلٹنٹ، یو وی اے سی، برطانیہ) شامل ہیں، نے اب تک ہونے والی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔ماہرین نے بتایا کہ ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک عالمی تحقیقی نظاموں خصوصاً برطانیہ کے ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ شراکت داروں کی نگرانی میں سٹیئرنگ گروپ اور ریف پروجیکٹ ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے جبکہ منتخب جامعات میں پائلٹ مرحلے کے ذریعے معیار اور طریقہ کار کو جانچا جا رہا ہے۔ایچ ای سی کے مختلف شعبہ جات کے سینئر حکام نے مباحثوں میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے پاکستان کے مخصوص حالات کے مطابق ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی بہترین عملی مثالوں کو قومی تناظر میں اپنانے کے لئے ایچ ای سی کے عزم کا مظہر ہے۔
اجلاس میں اخلاقی فریم ورک، گورننس ماڈل، نگرانی اور احتساب کے نظام، اور تحقیقی جائزے کے عمل کی شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لئے حفاظتی اقدامات پر اصولی اتفاق رائے پیدا کرنے پر توجہ دی گئی۔ سیشن کے اختتام پر اہم نکات کا خلاصہ پیش کیا گیا تاکہ آئندہ دنوں میں ہونے والی اسٹیک ہولڈر مشاورت کے لئے بیانیے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ہفتہ بھر جاری رہنے والی ان مشاورتوں کے دوران ایچ ای سی، برٹش کونسل اور برطانیہ کی ریف ٹیم تفصیلی تکنیکی اجلاس منعقد کریں گی جن کا مقصد ریسرچ ایکسیلینس فریم ورک پالیسی اور پائلٹ مرحلے کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے تحقیقی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے، شفافیت بڑھانے اور عوامی فنڈز سے ہونے والی تحقیق کے سماجی و معاشی اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔







