ایچ ای سی کااجلاس،ادارہ جاتی ہم آہنگی کے استحکام، ایکریڈیٹیشن کے عمل کو مؤثر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال

اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے کوالٹی ایشورنس ایجنسی (کیو اے اے) نے انڈرگریجویٹ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن سے متعلق دائرہ اختیار کے تعین اور ایکریڈیٹیشن کونسلز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اجلاس کی صدارت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی۔ رکن ہائر ایجوکیشن کمیشن محمد رضا چوہان سمیت اکیڈمکس و نصاب ڈویژن، …

اسلام آباد۔24فروری (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے کوالٹی ایشورنس ایجنسی (کیو اے اے) نے انڈرگریجویٹ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن سے متعلق دائرہ اختیار کے تعین اور ایکریڈیٹیشن کونسلز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔اجلاس کی صدارت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی۔ رکن ہائر ایجوکیشن کمیشن محمد رضا چوہان سمیت اکیڈمکس و نصاب ڈویژن، کوالٹی ایشورنس ڈویژن، قانونی امور ڈویژن، اسناد و توثیق (اٹی سٹیشن) ڈویژن اور ایکریڈیٹیشن ڈویژن کے سینئر حکام اور مختلف ایکریڈیٹیشن کونسلز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ادارہ جاتی ہم آہنگی کے استحکام، ایکریڈیٹیشن کے عمل کو مؤثر بنانے اور اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ریگولیٹری یکسانیت کے تحفظ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔محمد رضا چوہان نے اجلاس کے دوران 2002 کے ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس کے تحت کمیشن کے قانونی اختیار کو دہراتے ہوئے بالخصوص شق 20 پر زور دیا جو کسی بھی متصادم قانون پر آرڈیننس کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے۔

شرکاء نے اس امر کی توثیق کی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بطور ریگولیٹر اور سہولت کار کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی جامعہ کے قیام سے لے کر پروگرام کی منظوری، نصاب کی تیاری، پاکستان کوالیفکیشن رجسٹر (پی کیو آر) میں شمولیت اور ڈگری کی توثیق تک ہر مرحلے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقرر کردہ معیارات پر عملدرآمد لازمی ہے۔قومی اہلیت فریم ورک کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ایکریڈیٹیشن کونسلز کے مابین ذمہ داریوں کی وضاحت بھی کی گئی۔ اس کے مطابق پیشہ وارانہ انڈرگریجویٹ پروگرامز جو لائسنس کے اجرا ء کا باعث بنتے ہیں، کی ایکریڈیٹیشن کا اختیار متعلقہ کونسلز کے پاس برقرار رہے گا جبکہ ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی نگرانی بدستور کوالٹی ایشورنس ایجنسی، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہوگی، علاوہ ازیں کسی مخصوص اجازت کے تحت کوئی اور انتظام کیا جائے،اس وضاحت کا مقصد دہرے اختیارات کے تدارک، بہتر رابطہ کاری اور تمام تعلیمی سطحوں پر کوالٹی ایشورنس کے یکساں نظام کو یقینی بنانا ہے۔

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے تعلیمی معیار کی بہتری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام ایکریڈیٹیشن کونسلز کے ساتھ ایک جامع اجلاس بلانے کی ہدایت کی تاکہ ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور معیار میں بہتری کیلئے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی ساکھ اور عالمی سطح پر قبولیت کا انحصار ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پیشہ وارانہ کونسلز کے درمیان قریبی تعاون پر ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمارا مشترکہ ہدف یہ ہونا چاہئے کہ جامعات کے پروگرام قومی معیارات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہوں۔اجلاس کے اختتام پر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں شفاف طرز حکمرانی، ریگولیٹری وضاحت اور معیار و ساکھ کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔