کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس

"راولپنڈی ڈویژن میں مون سون بارشوں اور ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے جامع اور مؤثر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔”

راولپنڈی۔ 22 اگست (اے پی پی):کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ کی زیر صدارت راولپنڈی ڈویژن میں مون سون بارشوں اور ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لئے جامع انتظامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے سلسلے میں کمشنر آفس راولپنڈی میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

ہفتہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر منعقدہ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ، نیسپاک ، ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، واسا، راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، پی ڈی ایم اے، نیسپاک اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس میں مون سون بارشوں، اربن فلڈنگ اور خصوصاً نالہ لئی کی موجودہ صورتحال، پانی کے بہاؤ کی استعداد، فلڈ فورکاسٹنگ اور وارننگ سسٹم، نالہ لئی کی صفائی اور ڈی سلٹنگ سمیت ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نالہ لئی کی مجموعی لمبائی تقریباً 17 کلومیٹر ہے جبکہ پانی کے بہاؤ کی موجودہ گنجائش نیو کٹاریاں کے مقام پر تقریباً 20 ہزار کیوسک، گوالمنڈی کے مقام پر 33 ہزار کیوسک اور چکلالہ کے مقام پر 35 ہزار 600 کیوسک ہے۔ نالہ لئی کی چینل فلو کیپیسٹی میں اضافے کے لئے چکلالہ پل سے تقریباً ایک کلومیٹر ڈاؤن اسٹریم سے کٹاریاں پل تک چینل کی بہتری اور ضروری انجینئرنگ اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ چینل ڈیزائن 25 سالہ ریٹرن پیریڈ کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ اسلام آباد کے نالوں پر چیک ڈیمز بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے درخواست کی جائے گی۔ اسکے علاوہ راولپنڈی کے نشیبی علاقوں، بالخصوص صفدر آباد، پیر ودھائی، ڈھوک کھبہ اور صادق آباد میں اربن فلڈنگ سے بچاؤ کے لیے گراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس کی تعمیر کے امکانات کا فوری سروے کروایا جائے گا۔ انہوں نے واسا کو ہدایت کی آئندہ 15-20 دنوں کے اندر اپنا سروے مکمل کرے جس میں سیلابی خطرات کے نقشوں، فلڈ رسک میپس اور حساس مقامات کی نشاندہی کی جائے نیز اس کے حل کے لئے مقامی حل پروپوز کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری اقدامات کے تحت سیف سٹی کیمرے جو نالہ لئی پر لگائے گئے ہیں ان میں غیرقانونی ڈمپنگ کو بھی چیک کیا جائے نیز نالی کی رائٹ آف وے سے تجاوزات کا فوری خاتمہ بھی یقینی بنایا جائے- کمشنر نے مزید کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے باہمی جغرافیائی تعلق اور اپ اسٹریم و ڈاؤن اسٹریم صورتحال کے باعث اسلام آباد میں ہونے والی شدید بارشوں کا اثر راولپنڈی میں زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتا ہے۔ اس لئے دونوں شہروں کی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ کمشنر راولپنڈی نے ہدایت کی کہ نالہ لئی اور اس سے منسلک برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جائے، فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے اور بروقت اطلاعات متعلقہ اداروں اور عوام تک پہنچانے کے لئے مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نالہ لئی کی بروقت ڈی سلٹنگ اور ڈریجنگ، نکاسی آب کے نظام کی صفائی اور اہم ڈرینز و نالوں سے رکاوٹوں کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ شدید بارش کے دوران پانی کے قدرتی بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔اجلاس میں اربن فلڈنگ کے مستقل حل کے لئے مختلف مقامات پر پونڈز اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو منظم کرنے اور اضافی پانی کے ذخیرے کے لئے ممکنہ مقامات کا تکنیکی جائزہ لیا جائے۔ اس حوالے سے تجاویز اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ آئندہ اجلاس میں شیئر اور زیر بحث لائی جائیں گی تاکہ دونوں شہروں کے لئے مشترکہ اور قابل عمل حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ پانچ روز سے مسلسل بارش کے باوجود راولپنڈی میں کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایڈمنسٹریشن کو بارشی پانی کو نالہ لئی میں ڈسچارج کرنے سے قبل ٹریٹمنٹ کے لیے منصوبہ بنانے کی تجویز دی جائے گی۔ اسکے علاوہ فاطمہ جناح پارک میں بارشی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے انڈر گراؤنڈ اسٹوریج ٹینکس بنانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔