ایچ ای سی کا "سرکاری شعبے کے قائدین کے لئے مصنوعی ذہانت” کے عنوان سے ایک روزہ انتظامی تربیتی پروگرام کا انعقاد

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور علی بابا کلاؤڈ انٹیلی جنس گروپ کے اشتراک سے منگل کو "سرکاری شعبے کے قائدین کے لئے مصنوعی ذہانت” کے عنوان سے ایک روزہ انتظامی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا۔

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور علی بابا کلاؤڈ انٹیلی جنس گروپ کے اشتراک سے منگل کو "سرکاری شعبے کے قائدین کے لئے مصنوعی ذہانت” کے عنوان سے ایک روزہ انتظامی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا۔ایچ ای سی سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ تربیتی پروگرام وزیرِاعظم آفس کی ہدایت کے تحت وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور دیگر سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔ پروگرام ایچ ای سی اسلام آباد کے سمارٹ کلاس روم میں ہوا جس میں ایچ ای سی کی سینئر مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔

تربیتی سیشن علی بابا کلاؤڈ، سنگاپور کے سینئر سلوشن آرکیٹیکٹ (بگ ڈیٹا و مصنوعی ذہانت) ڈاکٹر جواد شاہ نے دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بدلتے ہوئے منظرنامے، سرکاری شعبے میں اس کے عملی استعمال، ڈیٹا پر مبنی فیصلوں اور ادارہ جاتی تبدیلی کے لئے مصنوعی ذہانت سے استفادہ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ شرکا کو مصنوعی ذہانت کو سرکاری اداروں میں اپنانے کے سٹریٹجک مضمرات، اس کے مؤثر نفاذ سے متعلق چیلنجز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے امکانات پر بھی آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بالخصوص مصنوعی ذہانت، کو اختیار کرنا ادارہ جاتی کارکردگی، اختراع اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کے فروغ کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی اپنی قیادت کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافے اور انہیں تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق بھی موجود تھے۔

پریس ریلیز کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل تبدیلی، اختراع اور جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لئے ایچ ای سی کے عزم کا مظہر ہے، جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ادارہ جاتی استعداد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

مزید خبریں