ایچ بی ایل اور ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک 16 جولائی تک انٹرآپریبلٹی کو شروع کر دیں گے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اجلاس میں بریفنگ

"قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ نے غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔”

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کا 17واں اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں ایم این اے میر غلام علی تالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

مذکورہ اجلاس بی آئی ایس پی ڈیجیٹل والیٹ انٹرآپریبلٹی، شراکت دار بینکوں کے ساتھ تعمیل کا نفاذ، مستحقین کے معاوضے اور انتظامی تنظیم نو کی جانچ پڑتال کے لیے بلایا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین نے وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کی والدہ کے انتقال پر فاتحہ خوانی کی۔ سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ انٹرآپریبلٹی کا مالی بوجھ فائدہ اٹھانے والے خود برداشت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ بی ایل اور ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک 16 جولائی 2026ء تک انٹرآپریبلٹی کو شروع کر دیں گے، اس کے بعد 20 جولائی کو ٹیلی نار مائیکرو فنانس بینک، تمام چھ شریک بینک 31 جولائی 2026ء تک انضمام کو مکمل کر لیں گے۔ چارجز صرف نقد رقم نکالنے پر لاگو ہوں گے جبکہ آن لائن ٹرانسفرز اور راست فنڈ کی منتقلی مکمل طور پر مفت رہے گی۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے کھاتوں کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور لازمی آن لائن فعالیت 31 دسمبر 2026ء کو شیڈول ہے۔ کمیٹی نے سیکرٹری بی آئی ایس پی کو ہدایت کی کہ وہ عمل درآمد کا ایک مضبوط طریقہ کار قائم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بینک مناسب جگہ پر پی او ایس ایجنٹس اور فائدہ اٹھانے والوں کے لیے سہولت فراہم کر رہے ہیں۔سیکرٹری بی آئی ایس پی نے کہا کہ بینک کی کارکردگی کی رپورٹ ہر ضلع سے کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔مستفید ہونے والوں کے لیے لاگت کے ڈھانچے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے کہا کہ لین دین کی لاگت 280 روپے مقرر کی جائے گی۔چارجز کے شیڈول سٹیٹ بینک ہر چھ ماہ بعد مطلع کرے گا۔ کمیٹی نے بی آئی ایس پی کو ہدایت کی کہ وہ اپنی میڈیا آگاہی مہم کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کرے اور ہدایت کی کہ وہ شرکت کرنے والے چھ بینکوں کے ساتھ رابطہ قائم کرے تاکہ وہ اپنے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے بجٹ کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا مہم شروع کریں۔کمیٹی نے ملک کے سماجی تحفظ کے فریم ورک کو موثر طریقے سے تشکیل دینے پر سٹیٹ بینک اور قائمہ کمیٹی کی قیادت کی تعریف کی۔16 مارچ 2026ء کو رحیم یار خان میں موبی لنک مائیکرو فنانس/جاز کیش بی آئی ایس پی پیمنٹ ڈسٹری بیوشن سنٹر میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی نے موبی لنک مائیکرو فنانس بینک کو جرمانہ کیا ہے۔ 20 لاکھ روپے کا معاوضہ ہر مرنے والے فرد کے لواحقین کو دیا جائے گا جبکہ زخمیوں کے علاج کے لیے 5 لاکھ روپے کی رقم بھی بینک ادا کرے گا۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ رحیم یار خان کے شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال میں کوکلیئر ایمپلانٹس کے لیے مطلوبہ سہولیات کا فقدان ہے اور خان گڑھ تحصیل میں وومن ایمپاورمنٹ سینٹر انفراسٹرکچر، افرادی قوت اور انسانی وسائل کی کمی کی وجہ سے غیر فعال ہے۔ کمیٹی نے بلاتعطل خدمات کو یقینی بنانے کے لیے مظفر گڑھ میں عارضی انتظامات کی تجویز پیش کی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ بی آئی ایس پی اور کمیٹی ممبران کے سوالات کمیٹی کے اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیے جائیں ۔ اجلاس میں ایم این اے میر غلام علی تالپور، ہما اختر چغتائی ، مخدوم طاہر راشد الدین، محمد الیاس چوہدری، نائمہ کنول، ارشد عبداللہ وہرہ ، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ، ایم ڈی پاکستان بیت المال اور سیکرٹری بی آئی ایس آئی نے شرکت کی ۔

مزید خبریں