پاکستان اور کروشیا کا سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں مزید رفتار پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

پاکستان اور کروشیا کا سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں مزید رفتار پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):پاکستان اور کروشیا نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں مزید رفتار پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ویزا سہولت سمیت باہمی دلچسپی کے وسیع شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔یہ اتفاق رائے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کروشیا کے وزیر برائے خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ ریڈمین کے درمیان یہاں وفود کی سطح کے مذاکرات کے دوران ہوا۔مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے پاکستان-کروشیا تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا اور سیاسی و اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، زراعت، افرادی قوت کی موبائلٹی، ویزا سہولت، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بندرگاہوں کے تعاون سمیت تمام باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔ یہ کروشیا کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ دوطرفہ تجارت ابھی اپنی حقیقی صلاحیت سے کم ہے تاہم تجارتی حجم میں اضافہ کا رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات کو دوبارہ فعال بنانے پر اتفاق کیا ہے جس میں مشترکہ مفاد کے لیے کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں اور کاروباری برادریوں کو قریب لانے کے لیے مستقبل میں بزنس ٹو بزنس تجارتی فورم کے انعقاد کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ فریقین نے دوطرفہ سیاسی مشاورت سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کو مکمل طور پر فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس مشاورت کا پہلا دور رواں سال یا 2027ء کے آغاز میں منعقد کیا جاسکتا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے اسلام آباد میں کروشیا کے ویزا پراسیسنگ مرکز کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے کا اعلان کیا۔ اس وقت پاکستانی درخواست گزاروں کو ویزا پراسیسنگ کے لیے ایران جانا پڑتا ہے۔ کروشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ کروشیا عوامی روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستانی شہری پاکستان میں ہی ویزا درخواستیں جمع کراسکیں تاکہ انہیں بیرون ملک سفر نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ کروشیا جلد یہ سہولت قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ نائب وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ، منظم اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ تارکین وطن کے حقوق اور زندگیوں کا تحفظ کیا جاسکے اور سمگلنگ کے غیر قانونی نیٹ ورکس کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تذویراتی جغرافیائی محل وقوع کا ذکر کرتے ہوئے کروشین وفد کو کراچی بندرگاہ کی استعداد، سہولیات اور رابطہ کاری کے بارے میں آگاہ کیا اور دونوں ممالک کی بندرگاہوں کے درمیان تعاون پر بات چیت کا آغاز کیا۔ مذاکرات کے دوران نائب وزیراعظم نے کروشین وفد کو دیرینہ تنازعہ جموں و کشمیر اور غزہ میں جاری صورتحال سے آگاہ کیا اور تجویز دی کہ نیویارک میں آئندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امن کوششوں کو دوبارہ فعال کیا جائے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے بھارتی اقدام پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور دوست ممالک سے پانی کو ہتھیار بنانے کے عمل کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کروشین وفد کو افغانستان سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس جن میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے شامل ہیں سے درپیش سکیورٹی چیلنجز سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان طالبان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل کرے اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک، خصوصاً پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ دونوں فریقوں نے یوکرین کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سکیم پاکستان-یورپی یونین اقتصادی تعاون کا ایک اہم ستون ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ نیا جی ایس پی پلس ضابطہ یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہونے والا ہے، پاکستان نے 2027ء کے آغاز میں دوبارہ درخواست دینے کے لیے تیاری کا عمل شروع کردیا ہے۔ کروشین وزیر خارجہ نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان کے عالمی معیشت میں انضمام کے لیے ایک محرک کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستانی کمپنیوں کو کروشیا میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بہترین جغرافیائی محل وقوع کے باعث کروشیا ایک توانائی مرکز بن چکا ہے اور یورپی منڈی کے لیے ایک کھلا دروازہ ہے۔ انہوں نے پاکستان میں کروشین کمپنیوں کی طویل موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دواسازی، صحت، آئی ٹی اور سیاحت کے شعبوں میں مارکیٹ میں مزید توسیع ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نو سٹریٹجک ہوائی اڈوں اور چھ بڑی سمندری بندرگاہوں کے ساتھ کروشیا بین الاقوامی سفر اور تجارت کے لیے ایک گیٹ وے بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی یورپ کے ساتھ کروشیا کے ریلوے روابط مضبوط نقل و حمل، توانائی اور ڈیجیٹل رابطہ کے نیٹ ورکس کو فروغ دیتے ہیں۔ دونوں ممالک نے اہم عالمی معاملات پر مضبوط ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی نظام، اقوام متحدہ کے چارٹر اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا۔کروشین وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے فعال کردار کا خیرمقدم کیا اور حالیہ سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بالخصوص پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کو سراہتے ہیں جن کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازعہ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔

اسلام آباد کو ’’امن اور سفارت کاری کا شہر‘‘ قرار دیتے ہوئے کروشین وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کروشین وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو آئندہ سال جون کے اختتام پر کروشیا میں منعقد ہونے والے ڈوبروونک فورم میں شرکت کی سرکاری دعوت بھی دی۔

مزید خبریں