سندھ میں 19 اضلاع کی 141 فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں کی بحالی مکمل

"فلڈ ایمرجنسی بحالی منصوبے کے تحت سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں کی بحالی دیہی معیشت، آمدورفت اور منڈیوں تک رسائی کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔”

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):سندھ حکومت نے فلڈ ایمرجنسی بحالی منصوبے کے تحت سیلاب سے متاثرہ 19 اضلاع میں 848.7 کلومیٹر پر مشتمل 141 فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں کی بحالی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان سڑکوں کی بحالی کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آمدورفت، منڈیوں تک رسائی اور دیہی رابطوں کو بحال کرنا ہے۔بحال کی گئی سڑکیں جامشورو، دادو، نوشہروفیروز، ٹھٹھہ، سجاول، حیدرآباد، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، بدین، تھرپارکر، سانگھڑ، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد، لاڑکانہ، عمرکوٹ، خیرپور، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ اور سکھر کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں واقع ہیں۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے کے اس حصے کی تکمیل کی آخری تاریخ دسمبر 2027 مقرر تھی تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق سڑکوں کی بحالی کا پیکیج پہلے ہی مکمل کر لیا گیا ہے۔

توقع ہے کہ ان بحال شدہ سڑکوں سے تقریباً 50 لاکھ افراد براہ راست اور بالواسطہ مستفید ہوں گے کیونکہ ان کے ذریعے زرعی زمینوں، منڈیوں، تعلیمی اداروں، صحت کی سہولتوں اور مقامی تجارتی مراکز تک رسائی بہتر ہوگی۔ دستاویزات میں سندھ فلڈ ایمرجنسی بحالی منصوبے کے مجموعی نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ اب تک 53 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں 24 لاکھ 20 ہزار افراد اس منصوبے سے مستفید ہو چکے ہیں جبکہ 26 لاکھ 50 ہزار خواتین کے ہدف کے مقابلے میں 11 لاکھ 71 ہزار خواتین کو فائدہ پہنچا ہے۔اسی طرح اب تک 6 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں 4 لاکھ 28 ہزار گھرانے مستفید ہوئے ہیں۔ منصوبے کے تحت 250 کلومیٹر کے ہدف کے مقابلے میں 205 کلومیٹر حفاظتی پشتوں کی جدید معیار کے مطابق بحالی کی جا چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 80 ہزار ہیکٹر کے ہدف کے مقابلے میں ایک لاکھ 57 ہزار ہیکٹر اراضی بحال کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں کی بحالی بعد از سیلاب بحالی کے عمل میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں سڑکوں کا ناقص رابطہ بحالی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ سیلاب سے تباہ ہونے والی سڑکوں کے باعث دیہات منڈیوں سے کٹ جاتے ہیں، زرعی اجناس اور مویشیوں کی نقل و حمل میں تاخیر ہوتی ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور دیہی خاندانوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ ان رابطہ سڑکوں کی بحالی سے زراعت، چھوٹے کاروبار اور دیہی روزگار کو براہ راست فروغ ملنے کی توقع ہے۔

مزید خبریں