کوئٹہ۔ 04 دسمبر (اے پی پی):ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ، مجیب الرحمن قمبرانی کی زیر صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ میں ریونیو جنریشن کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے، شفافیت بڑھانے اور مالی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کوئٹہ، ڈائریکٹر اسٹیٹ ایم سی کیو، میونسپل انجینئر، چیف آرکیٹیکٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر فائر سروسز، ڈپٹی ڈائریکٹر …
ایڈمنسٹریٹرمیٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی زیر صدارت ریونیو سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 04 دسمبر (اے پی پی):ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ، مجیب الرحمن قمبرانی کی زیر صدارت میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ میں ریونیو جنریشن کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے، شفافیت بڑھانے اور مالی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کوئٹہ، ڈائریکٹر اسٹیٹ ایم سی کیو، میونسپل انجینئر، چیف آرکیٹیکٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر فائر سروسز، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ، تحصیلدار سٹی/سول لائنز، سب رجسٹرار کوئٹہ، مینیجر جے ایس بینک، اکانٹس آفیسر سمیت ایم سی کیو کے دیگر افسران شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران حکومتِ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں ریونیو کے تمام ہیڈز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کے طریقہ کار پر مشاورت کی گئی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ ریونیو ڈیٹا کو مثر انداز میں منظم کرنے، مختلف ریونیو شعبوں کی واضح درجہ بندی کرنے اور ہر سیکشن کے لیے الگ اور شفاف چالانز کے اجرا کی تیاری پر کام جاری ہے، تاکہ ریونیو جنریشن کے پورے عمل کو شفاف، مربوط اور قابلِ نگرانی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جے ایس بینک کے ساتھ ریونیو ڈیپازٹ کے لیے طے شدہ معاہدے (یاداشت) پر عملدرآمد کے عملی پہلوں پر بھی غور کیا گیا۔
ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ مجیب الرحمن قمبرانی نے اجلاس کے دوران کہا کہ میونسپل ریونیو نظام کی ڈیجیٹلائزیشن ادارے کی مالی مضبوطی اور شہری خدمات کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے فوری، منظم اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اصلاحاتی اقدامات مکمل کریں اور بین-محکماتی رابطہ کاری کو مزید مثر بنائیں، تاکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے ریونیو نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہری سہولت، مالی نظم و ضبط اور ریونیو سسٹم کی شفافیت کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رہیں گے۔








