ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قیادتی ترقیاتی پروگرام گزشتہ روز مکمل

نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قیادتی ترقیاتی پروگرام گزشتہ روز مکمل ہوگیا جس میں سرکاری و نجی شعبوں کے سینئر افسران، ماہرین تعلیم اور فیصلہ ساز شخصیات نے شرکت کی۔ دو روزہ پروگرام بصیرت کے ساتھ قیادت کرنا اور موثر انداز میں نظم و نسق سنبھالنا کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔

لاہور۔21مئی (اے پی پی):نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قیادتی ترقیاتی پروگرام گزشتہ روز مکمل ہوگیا جس میں سرکاری و نجی شعبوں کے سینئر افسران، ماہرین تعلیم اور فیصلہ ساز شخصیات نے شرکت کی۔ دو روزہ پروگرام بصیرت کے ساتھ قیادت کرنا اور موثر انداز میں نظم و نسق سنبھالنا کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔ پروگرام میں سینیٹ آف پاکستان، قومی اسمبلی، پاک فضائیہ، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، پنجاب اسمبلی، وزیر اعظم یوتھ پروگرام، جامعہ پنجاب، جامعہ میانوالی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، انڈس ہسپتال، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن اور نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہور کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈین ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ نوید الہی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیڈرشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کا مقصد پیشہ ورانہ قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا اور پبلک سروس میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام میں ٹیم ورک، جذباتی ذہانت، قیادت کے انداز، جدت طرازی اور موثر ابلاغ جیسے اہم موضوعات شامل کیے گئے۔ ڈائریکٹر ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کامران احمد نے ادارے کی کارکردگی اور اسٹریٹجک اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین کو تربیتی پروگراموں میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ شرکا کو جامع رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ پروگرام کے پہلے روز ڈاکٹر محمد امجد ثاقب، ڈاکٹر عشرت حسین، کامران لاشاری اور ڈاکٹر سعد بی ملک نے قیادت، اسٹریٹجک مینجمنٹ، عوامی شعبے میں جدت اور جذباتی ذہانت پر سیشنز دئیے جبکہ دوسرے روز شعیب میر، شعیب دستگیر اور ظفر مسعود سمیت دیگر مقررین نے قیادت کے انداز، مصنوعی ذہانت، اخلاقی قیادت اور وژنری لیڈرشپ پر اظہار خیال کیا۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نوید الہی نے شرکا پر زور دیا کہ وہ قومی ترقی کے لیے دیانتدار اور موثر قیادت کو فروغ دیں جبکہ بعد ازاں شرکا میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔