بانی پی ٹی آئی کامطلوبہ علاج سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہ ہونے پر حکومت شفا انٹرنیشنل یا بہتر طبی مرکز میں علاج کی پابند ہوگی،، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
بانی پی ٹی آئی کامطلوبہ علاج سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہ ہونے پر حکومت شفا انٹرنیشنل یا بہتر طبی مرکز میں علاج کی پابند ہوگی،، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی کے مطلوبہ علاج کی سہولت سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب نہ ہوئی تو حکومت شفا انٹرنیشنل ہسپتال یا اس سے بہتر طبی مرکز میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کو ضروری طبی علاج کی فراہمی کی مخالفت یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قواعد کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں طبی علاج فراہم کیا جاتا ہے تاہم اس انتظام کی حدود سے متعلق قانونی معاملہ سپریم کورٹ میں وضاحت کے لئے زیر سماعت ہے، اگر عدالت عظمیٰ یہ قرار دیتی ہے کہ مطلوبہ علاج موجودہ طریقہ کار سے باہر فراہم کیا جا سکتا ہے تو حکومت عدالتی فیصلے پر عمل کرے گی۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کے مطلوبہ علاج کی سہولت کسی سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہ ہوئی تو حکومت شفا انٹرنیشنل ہسپتال یا اس سے بہتر طبی مرکز میں علاج کا انتظام کرے گی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی صحت سے متعلق تحفظات پر وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ان کی صحت کی صورتحال پر تشویش رکھتی ہے اور پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ سے دوبارہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جیل قواعد کے تحت دستیاب تمام طبی سہولیات انہیں فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو ماضی میں ہسپتال میں علاج سمیت دیگر طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، متعلقہ حکام سے تازہ صورتحال حاصل کرنے کے بعد اپوزیشن کو پیشرفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک تھا جس دوران حساس تنصیبات، پولیس اور قومی املاک کو نشانہ بنایا گیا جن میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے متعلق ویڈیوز اور دیگر شواہد موجود ہیں اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کا واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا انہیں سزا نہیں دی جانی چاہئے جبکہ ملوث ثابت ہونے والے افراد کو عدالتوں کی جانب سے سزا دی گئی ہے۔








