باوقار روزگار کے فروغ، مزدور اداروں کی مضبوطی اور معاشی و ماحولیاتی تبدیلی کے دوران کسی بھی محنت کش کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، چوہدری سالک حسین
باوقار روزگار کے فروغ، مزدور اداروں کی مضبوطی اور معاشی و ماحولیاتی تبدیلی کے دوران کسی بھی محنت کش کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، چوہدری سالک حسین
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل ترقی چوہدری سالک حسین نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ باوقار روزگار کے فروغ، مزدور اداروں کی مضبوطی اور پاکستان کی معاشی و ماحولیاتی تبدیلی کے دوران کسی بھی محنت کش کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فریڈرش ایبرٹ شٹفٹنگ (ایف ای ایس) پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ پانچویں قومی لیبر کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع ’’باوقار روزگار اور منصفانہ توانائی کی منتقلی‘‘ تھا۔ کانفرنس میں حکومت، مزدور تنظیموں، آجروں، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی اور دیگر اہم قومی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی کی منتقلی، مزدور حقوق، سماجی تحفظ، روزگار اور سماجی مکالمے سے متعلق چیلنجز اور مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

منگل کو جاری بیان کے مطابق چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان کے پاس پالیسیوں کی کوئی کمی نہیں، اصل ضرورت ان پر موثر اور عملی عملدرآمد کی ہے۔شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے کنٹری ڈائریکٹر ایف ای ایس پاکستان فیلیکس کولبٹزنے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والے محنت کشوں کے مسائل اور بڑھتی ہوئی سماجی و معاشی ناہمواریاں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موثر سماجی مکالمے، مضبوط مزدور تحفظ، صنفی حساس پالیسیوں اور پالیسی سازی میں مزدور تنظیموں کی فعال شمولیت کے بغیر منصفانہ توانائی کی منتقلی ممکن نہیں۔کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے ایف ای ایس پاکستان کی ریجنل کلائمیٹ کوآرڈینیٹر سدرا سعید نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی اقدامات کو سماجی انصاف، روزگار کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔
افتتاحی اجلاس میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (PRIED) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بدر عالم نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سماجی، معاشی اور ادارہ جاتی تناظر میں منصفانہ منتقلی کے تصور کی وضاحت کی۔ انہوں نے موسمیاتی پالیسیوں کی تشکیل کے حوالے سے باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کمزور و پسماندہ محنت کش طبقوں اور مقامی آبادیوں کا تحفظ یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں پاکستان کے پائیدار توانائی کے مستقبل سے متعلق تحقیقی مطالعات پیش کیے گئے۔ ان میں غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ سماجی تحفظ، منصفانہ توانائی کی منتقلی میں ٹریڈ یونینز کے کردار اور بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے محنت کشوں اور صارفین پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
مباحثے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے موثر مقابلے کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینا، اجتماعی سودے بازی کو مضبوط بنانا، مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنا اور قومی توانائی منصوبہ بندی میں مزدوروں کی آواز کو موثر انداز میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور معاشی ڈھانچے میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والی بڑھتی ہوئی معاشی و سماجی کمزوریوں سے نمٹنے کے لیے موافقت پذیر سماجی تحفظ نہایت اہم ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر پاکستان کی مختلف مزدور تنظیموں کے رہنمائوں کے درمیان اعلیٰ سطحی مکالمہ منعقد ہوا۔ بجلی کے شعبے، صنعتی مزدوروں، گھریلو بنیادوں پر کام کرنے والی خواتین محنت کشوں اور مختلف قومی مزدور فیڈریشنوں کے نمائندوں نے ملک بھر سے زمینی حقائق پیش کیے اور مطالبہ کیا کہ مزدور قوانین کو مزید موثر بنایا جائے، سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے، سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کیا جائے، کام کی جگہوں پر حفاظت کے معیار بہتر بنائے جائیں، گرین جابز میں سرمایہ کاری کی جائے اور حکومت، آجروں اور محنت کشوں کے درمیان باقاعدہ اور ادارہ جاتی سماجی مکالمے کو فروغ دیا جائے۔
شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی سبز معیشت کی جانب پیش رفت صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف، باوقار روزگار اور مساوی معاشی مواقع کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے حکومت، آجروں اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مل کر ایسی جامع قومی حکمت عملی تشکیل دیں جو منصفانہ توانائی کی منتقلی کے دوران محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پائیدار معاشی ترقی کو بھی فروغ دے۔ کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے موسمیاتی اہداف اور پائیدار ترقی کے مقاصد اسی صورت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب پالیسی اصلاحات کے مرکز میں محنت کشوں کو رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صاف، محفوظ اور موسمیاتی لحاظ سے زیادہ مضبوط مستقبل کی جانب سفر میں کوئی بھی محنت کش یا کمیونٹی پیچھے نہ رہ جائے۔









