بدخشاں میں منحرف طالبان کمانڈر کی افغانستان میں غیر ملکی عسکریت پسند گروپوں کی مخالفت

بدخشاں میں منحرف طالبان کمانڈر کی افغانستان میں غیر ملکی عسکریت پسند گروپوں کی مخالفت

اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان کے ایک منحرف کمانڈر جمعہ خان فاتح نے تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) اور بلوچستان لبریشن آرمی( بی ایل اے ) کا واضح طور پر نام لیتے ہوئے ملک میں غیر ملکی مسلح گروہوں کی موجودگی کی علانیہ مخالفت کا اظہار کیا ہے ۔اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں جمعہ خان فتح نے کہا کہ وہ پہلے دن سے ہی ان غیر ملکی گروہوں کی افغانستان میں موجودگی کے مخالف رہے ہیں اور آج بھی اپنے اسی مؤقف پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کے خاتمے اور انہیں کچلنے کے لیے کی جانے والی ہر کارروائی یا حملے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ شہریوں کے قتل و غارت کو روکا جا سکے۔جمعہ خان فتح نے مزید دعویٰ کیا کہ درواز کا علاقہ اور بدخشان کی اہم معدنی کانیں مکمل طور پر ان کی فورسز کے کنٹرول میں ہیں اور وہ درواز اور بدخشان میں کسی بھی قسم کی دراندازی یا قبضے کی کوشش کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آخری سانس تک ہم کسی کو بھی درواز اور بدخشان پر قبضہ یا دراندازی نہیں کرنے دیں گے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی ادارے اور خطے کے متعدد ممالک بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ طالبان حکومت غیر ملکی مسلح گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق بدخشان میں مقامی طالبان کمانڈروں اور قندھار و ہلمند میں طالبان کی مرکزی قیادت سے وابستہ شخصیات کے درمیان اختلافات میں بھی شدت آ رہی ہے۔

مقامی ذرائع اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ طالبان کے ایک وفد اور جمعہ خان فتح کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ادھر الگ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان نے بدخشان کے علاقے درواز کی جانب اپنے فوجی قافلے بھی روانہ کیے ہیں۔