برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے، خرم شہزاد

وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ ، مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات کے تسلسل سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید بہتری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ ، مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات کے تسلسل سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید بہتری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ستمبر 2026ء کے دوران ترسیلات زر سالانہ بنیادوں پر 12.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.6 ارب ڈالر رہیں، پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں ترسیلاتِ زر کا حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو 9.5 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی تھیں۔ رواں مالی سال کے آغاز پر ترسیلاتِ زر اور اشیا کی برآمدات، دونوں میں دوہرے ہندسے کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران اشیا کی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد جبکہ ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کا رجحان مختلف ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے رقوم کی ترسیل میں بہتری کا عکاس ہے۔ ستمبر کے دوران سعودی عرب سے 899 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے 749 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جن میں سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانیہ سے 515 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ یورپی یونین کے ممالک سے 448 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر آئیں، جن میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دیگر ممالک سے 342 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔ خرم شہزاد نے کہا کہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور درآمدات کے لیے مالی گنجائش بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے درآمدی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت اور بیرونی اقتصادی دباؤ برداشت کرنے کی سکت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں پائیدار اضافہ، مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات کے تسلسل کے ساتھ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید بہتری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ بیرونی آمدن میں اضافے کے ساتھ ایسے اقدامات بھی جاری رکھے جائیں جو ادائیگیوں کے توازن میں عدم استحکام پیدا ہونے سے روکیں۔