اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ برکس ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون، معلومات کے تبادلے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کیلئے اچھا پلیٹ فارم ہے۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ برکس گروپ میں مزید چھ ممالک کی شمولیت اس کی حرکیات اور مقاصد کو تبدیل …
برکس ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون، معلومات کے تبادلے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کیلئے اچھا پلیٹ فارم ہے، شہزاد علی ملک
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ برکس ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون، معلومات کے تبادلے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات کیلئے اچھا پلیٹ فارم ہے۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ برکس گروپ میں مزید چھ ممالک کی شمولیت اس کی حرکیات اور مقاصد کو تبدیل کر سکتی ہے۔
اس کی معیشتوں میں ترقی کے بہت زیادہ امکانات ہیں جو انہیں سرمایہ کاری، تجارتی شراکت داری اور تکنیکی تعاون کے لیے پرکشش مقامات بنا سکتے ہیں۔ اس سے گروپ کے اثر و رسوخ اور وسائل میں اضافہ ہو گا جبکہ یہ رابطہ کاری اور فیصلہ سازی کے حوالے سے چیلنجز کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ اقتصادی ترقی اور تعاون کو فروغ دینے کے اصل مقصد کو حاصل کر سکتا ہے یا نہیں اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئے ممبران گروپ کے ساتھ کتنی اچھی طرح ہم آہنگ ہیں اور اپنے اختلافات پر کس حد تک موثر طریقے سے قابو پا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برکس زیادہ متوازن، جامع اور کثیر قطبی عالمی معیشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ رکن ممالک اور غیر رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ شہزاد علی ملک ستارہ امتیاز نے کہا کہ برکس کا نیا ترقیاتی بینک رکن ممالک اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کی سپورٹ کرتا ہے۔
برکس رکن ممالک کی اقتصادی ترقی کی شرح اور مشترکہ اثر و رسوخ عالمی اقتصادی رجحانات کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام کثیر قطبی عالمی نظام کی حامی ہیں اور اچھا خاصا جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ رکھتی ہیں جو مغربی طاقتوں کے روایتی تسلط کو چیلنج کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برکس ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات کے خواہاں ہیں تاکہ ابھرتے ہوئے معاشی منظرنامے کی بہتر عکاسی اور انہیں زیادہ منصفانہ نمائندگی حاصل ہو سکے۔









