یوکرین کے ساتھ جنگ کو محدود کرنے پر بات چیت جاری ہے ، روسی صدر

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ کو محدود کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ تاس کے مطابق روسی میڈیا ادارے ویسٹی کو انٹرویو میں صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ انہیں جنگ کو چار علاقوں کھیر سون ، زیپوریزیا، ڈونیٹسک اور لوگانسک تک محدود کرنے کی تجویز موصو ل ہوئی ہے۔

ماسکو۔29جون (اے پی پی):روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ کو محدود کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ تاس کے مطابق روسی میڈیا ادارے ویسٹی کو انٹرویو میں صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ انہیں جنگ کو چار علاقوں کھیر سون ، زیپوریزیا، ڈونیٹسک اور لوگانسک تک محدود کرنے کی تجویز موصو ل ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کا تنازعہ حل کرنے کے لئے بات چیت جاری ہے ، فریقین کے درمیان رابطے ہیں جو کئی علاقوں میں اور کئی چینلز کے ذریعے قائم ہوئے ہیں۔

اس میں کوئی راز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو روس اور یوکرین میں ایک دوسرے پر سرحدوں سے دور اندر تک ہونے والے حملوں کو معطل کرنے کے معاہدے کی پیشکش کی گئی ہے لیکن نئی تجاویز بھی ہیں۔ میں ان میں سے کچھ کا نام لینے کے لیے تیار ہوں۔ مثال کے طور پر دونوں ممالک کے علاقوں میں گہرائی میں حملوں کو روکنے کی تجویز ہے۔ روس کو جنگ کو چار علاقوں تک محدود کرنے کی تجویز موصول ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ صرف کھیرسون اور زاپوروزئے علاقوں اور ڈونیٹسک اور لوگانسک عوامی جمہوریہ میں کی جائے گی اور باقی تمام علاقوں میں جنگ ختم ہو جائے گی۔

یہ تجویز یوکرینی حکومت نے دی ہے اور اگر ہم اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں، تو یوکرین نکولائیف، دنیپروپیٹروسک، خارکوف اور سومی کے علاقوں سے اپنے فوجیوں کو واپس بلا سکے گا۔روسی صدر نے کہا کہ دراصل یوکرین کی حکومت کو فوج میں افرادی قوت میں شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ بظاہر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی بچت ہو سکتی ہے، لیکن یوکرین کی حکومت کو بچانا ہمارے منصوبوں کا حصہ نہیں ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ روس یوکرین جنگ کے حوالے سے موصول ہونے والی ہر تجویز پر پوری توجہ دیتا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ اینکرج سربراہی اجلاس میں انہوں نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں یوکرین کے حوالے سے کچھ سمجھوتوں پر اتفاق کیا تھا اور ان کا ملک یوکرین کے تصفیے کے لیے ان تمام شرائط پر واشنگٹن کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے جن پر اینکریج سربراہی اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

 

مزید خبریں