دلہن کے زیورات پر صرف اسی کا حق، شوہر یا سسرال کوئی دعویٰ نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

دلہن کے زیورات پر صرف اسی کا حق، شوہر یا سسرال کوئی دعویٰ نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے سونے کے زیورات، برائیڈل گفٹس اور دیگر تحائف اس کی مکمل ذاتی ملکیت ہیں جن پر شوہر، ساس، سسر یا دیگر سسرالی رشتہ داروں کا کوئی قانونی یا ملکیتی حق نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے زیورات یا تحائف پر قبضہ کرنا یا انہیں روکنا دلہن کو اس کے قانونی ملکیتی حقوق سے غیرقانونی طور پر محروم کرنے کے مترادف ہے۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا جبکہ تحریری فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے قلمبند کیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ والدین، رشتہ داروں یا دوستوں کی جانب سے دلہن کو دیا گیا سونا، زیورات اور برائیڈل گفٹس صرف دلہن کی ملکیت تصور ہوں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی تحفے کی ملکیت کا تعین اس نیت سے ہوگا جس مقصد کے لیے وہ تحفہ دیا گیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے مزید واضح کیا کہ شوہر یا سسرال کے افراد دلہن کے زیورات یا دیگر ذاتی تحائف پر قبضہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا ناجائز استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر بیوی کو اپنے زیورات، جہیز یا دیگر ذاتی سامان کی واپسی درکار ہو تو وہ فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے جبکہ فیملی کورٹ کو ایسے مقدمات کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔عدالت نے شوہر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور اس قانونی اصول کی توثیق کی کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے تحائف اور زیورات اسی کی انفرادی ملکیت ہیں۔

مزید خبریں