پاکستان بھر کے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام، مشائخ عظام اور مذہبی رہنماؤں نے پیر کے روز انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ملک بھر میں امن، مذہبی رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
پاکستان کی مذہبی قیادت کا انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف دوٹوک عزم، قومی سلامتی کے اداروں کی بھرپور حمایت کا اعلان

مزید خبریں
راولپنڈی۔29جون (اے پی پی):پاکستان بھر کے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام، مشائخ عظام اور مذہبی رہنماؤں نے پیر کے روز انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ملک بھر میں امن، مذہبی رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔یہ عزم جامع مسجد مرحبا میں منعقدہ "پیغامِ پاکستان علماء و مشائخ سیمینار” میں کیا گیا، جہاں مقررین نے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں مثالی امن کے قیام کو قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ضابطۂ اخلاق "پیغامِ پاکستان” کی کامیاب عملداری قرار دیتے ہوئے اس جذبے کو پورا سال برقرار رکھنے پر زور دیا۔
علماء کرام نے محرم الحرام کے دوران ملک کو درپیش حساس سکیورٹی صورتحال کے باوجود امن و امان برقرار رکھنے پر پاک فوج، رینجرز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں، صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور رضاکاروں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی قیادت اور اراکین کی ملک گیر کاوشوں کو بھی سراہا، جنہوں نے اضلاع اور تحصیلوں کا دورہ کرکے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، ذاکرین، خطباء، واعظین، جلوسوں اور مجالس کے منتظمین کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنایا اور پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیمینار سے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مولانا محمد نعمان حاشر، مفتی اقبال رضوی، مولانا ابو بکر صابری، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا شہباز نعمانی، مولانا عاطف تنویر، مولانا سمیع اللہ، مولانا زاہد منصور، مولانا ذوالفقار، مولانا طاہر عقیل، مولانا عطااللہ شاہ بخاری اور دیگر جید علماء کے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ محرم الحرام کے دوران دشمن عناصر فرقہ وارانہ حساسیت کو ہوا دے کر پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے، تاہم علماء کرام کی ذمہ دارانہ قیادت، قومی پیغامِ امن کمیٹی کی مسلسل کوششوں، ریاستی اداروں کے باہمی تعاون اور عوامی شعور کے باعث ملک بھر میں امن و امان برقرار رہا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان مختلف مکاتبِ فکر اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے، جہاں ہر شہری کے مذہبی عقائد اور مقدسات کا احترام آئینی، قانونی اور دینی تقاضا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی فرد یا گروہ کو کسی دوسرے کے مذہبی مقدسات کی توہین یا نفرت انگیزی کا کوئی حق حاصل نہیں۔انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق اسلام کی حقیقی تعلیمات کا آئینہ دار ہے، جو اعتدال، مکالمہ، عدل، برداشت، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی تلقین کرتا ہے، جبکہ اختلافات کا حل صرف آئین، قانون اور عدالتی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ تشدد یا قانون کو ہاتھ میں لینے سے۔
حافظ طاہر اشرفی نے ذمہ دارانہ دینی رہنمائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فتویٰ صرف وہی علماء دے سکتے ہیں جو اس کے لیے مطلوبہ علمی اہلیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کی کاوشوں سے غیر ذمہ دارانہ فتوؤں کے رجحان میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور انتہا پسندی کے تدارک میں مدد ملی ہے۔انہوں نے محرم الحرام کے دوران ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے متنازع مواد کے معاملے پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی فوری قانونی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں نے آئین اور قانون کے مطابق بروقت اقدام کرکے یہ ثابت کیا کہ حساس مذہبی معاملات کا حل احتجاج، تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے میں نہیں بلکہ قانونی کارروائی میں ہے۔انہوں نے متعلقہ ٹی وی چینل کی انتظامیہ کی جانب سے اصلاحی اقدامات کو بھی مثبت قرار دیتے ہوئے تمام الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
حافظ اشرفی نے کہا کہ اگر کسی سے غلطی سرزد ہو جائے اور وہ اس کی اصلاح کر لے تو اسے سراہنا چاہیے، تاہم اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی جاری رکھے تو اس کے خلاف کارروائی صرف آئین، عدالتوں اور ریاستی اداروں کے ذریعے ہونی چاہیے، کسی فرد یا گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام، حضرت محمد ﷺ، صحابۂ کرامؓ، اہلِ بیت اطہارؓ اور دیگر مقدس شخصیات کے احترام کا تحفظ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں، بشمول غیر مسلموں، کو مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔علاقائی سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے سلامتی کے اداروں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا اور دشمن عناصر کی پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ملکی عسکری قیادت کی جانب سے قومی اتحاد، داخلی استحکام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، نظریاتی بنیاد اور قومی وحدت کا انحصار داخلی امن پر ہے۔
علماء و مشائخ نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کا دارومدار آئین کی بالادستی، ریاستی اداروں کی مضبوطی، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی پر ہے۔سیمینار کے شرکاء نے کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ افغانستان سے کارروائی کرنے والے بھارت کے سرپرستی یافتہ دہشت گردوں نے کیا۔ انہوں نے اس حملے کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ایک بزدلانہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی سازشیں قوم کے حوصلے کو کبھی متزلزل نہیں کر سکتیں۔علماء کرام نے پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ وطنِ عزیز کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کا تحفظ پوری قوم کی مشترکہ قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔انہوں نے وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا، شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، جبکہ پاک فوج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ دہشت گردی، انتہا پسندی اور ہر قسم کی تخریبی کارروائیوں کے خلاف شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔سیمینار کے اختتام پر علماء و مشائخ نے پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں، سلامتی کے اداروں، سول سوسائٹی اور تمام مکاتبِ فکر کے ساتھ مل کر بین المسالک ہم آہنگی، بین المذاہب رواداری، قومی اتحاد اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔








