پاکستان کی معاشی ترقی کا مستقبل برآمدات پر مبنی نمو، صنعتی استعداد میں اضافے اور بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ مضبوط روابط سے وابستہ ہے، سردار طاہر محمود

پاکستان کی معاشی ترقی کا مستقبل برآمدات پر مبنی نمو، صنعتی استعداد میں اضافے اور بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ مضبوط روابط سے وابستہ ہے، سردار طاہر محمود

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا مستقبل برآمدات پر مبنی نمو، صنعتی استعداد میں اضافے اور بین الاقوامی منڈیوں بالخصوص یورپی یونین، کے ساتھ مضبوط روابط سے وابستہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اورینٹیشن ورکشاپ ’’کارپوریٹ پائیداری کے تقاضوں سے متعلق احتیاطی جانچ اور ذمہ داریوں کی تیاری: بنیادی اصول اور عملی اقدامات‘‘ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ورکشاپ کا انعقاد ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکائونٹیبلٹی (ٹی ڈی ای اے) نے یورپی یونین کے تعاون سے جاری حقوق پاکستان دوم پروگرام کے تحت کیا جسے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ عالمی تجارتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جہاں مسابقت کا انحصار اب صرف معیار اور قیمت پر نہیں بلکہ پائیداری، شفافیت، ذمہ دارانہ کاروباری طرز عمل، مضبوط رسدی سلسلوں اور ابھرتے ہوئے ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل پر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کو ان تقاضوں کو رکاوٹ نہیں بلکہ جدت، جدیدیت اور طویل المدتی مسابقت کے مواقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافہ پاکستان کے لیے معاشی ضرورت بن چکا ہے کیونکہ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوتے ہیں، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور قومی معیشت مزید مضبوط اور پائیدار بنتی ہے۔ صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے جبکہ پاکستان کو جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے سب سے بڑے مستفید ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس کے تحت یورپی منڈی میں تقریباً دو تہائی محصولات کی مدات پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ترجیحی تجارتی سہولیات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے تیاری، منڈیوں سے متعلق معلومات، برآمدی تنوع اور قدر میں اضافے کی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان اور جراحی آلات نے عالمی سطح پر پاکستان کی ایک مضبوط شناخت قائم کی ہے تاہم دواسازی کا شعبہ مستقبل میں برآمدات کے فروغ کے لیے بے پناہ امکانات رکھتا ہے اور اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح کا صنعتی علاقہ تیزی سے پاکستان کی ’’دوا سازی کی وادی‘‘ کے طور پر ابھر رہا ہے۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی کاروبار اور انسانی حقوق کی ماہر امبر اصغر نے کہا کہ ابھرتے ہوئے ضابطہ جاتی تقاضوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری اداروں کو عملی رہنمائی، تکنیکی معاونت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے ان تقاضوں کو سمجھنے، نافذ کرنے اور ان سے استفادہ کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے تمام شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے کہا کہ ایسے پروگرام ملکی برآمدات کے فروغ اور قومی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی مستقبل میں بھی ایسے موثر پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گا تاکہ برآمد کنندگان کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے اور انہیں بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس موقع پر شاہد فیاض، چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹی ڈی ای اے، عدنان انجم، کاروبار اور انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ، صلاح الدین صفدر، تحقیق و پالیسی وکالت کے سربراہ اور رخسانہ شما، صنفی شمولیت اور مساوی مواقع کے شعبے کی سربراہ نے یورپی منڈی کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور ان کے پاکستانی کاروباری اداروں پر اثرات کے حوالے سے تفصیلی اظہار خیال کیا۔

شرکاء نے اس پروگرام کو بروقت اور نہایت مفید اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو عملی معلومات اور ضابطہ جاتی آگاہی فراہم کرنا یورپی منڈیوں میں موجود نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ناگزیر ہے۔اس موقع پر آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبران سمیت کاروباری برادری کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔