بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا مختلف اضلاع میں کریک ڈائون، غیر رجسٹرڈ انفینٹ فارمولا دودھ اور ناقص اشیا ضبط
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا مختلف اضلاع میں کریک ڈائون، غیر رجسٹرڈ انفینٹ فارمولا دودھ اور ناقص اشیا ضبط

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 04 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلی بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر غیر لائسنس یافتہ، غیر رجسٹرڈ، غیر معیاری اور غیر ٹریس ایبل انفینٹ فارمولا دودھ سمیت ناقص اشیائے خوردونوش کے خلاف صوبے بھر میں کارروائیاں جاری ہیں۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اے پی پی کوبتایاکہ جمعہ کے روز نواں کلی بائی پاس روڈ کوئٹہ میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے 25 خوراک کے مراکز کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران 2 دکانوں سے غیر تصدیق شدہ خشک دودھ پائوڈر ضبط کیا گیا۔ ضبط شدہ مصنوعات میں نصیب، انعام II برانڈز سمیت بغیر لیبل کے کھلے خشک دودھ پائوڈر بھی شامل تھے۔ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران خریداری کی رسیدیں، درآمدی دستاویزات، بیچ ریکارڈ، ٹریس ایبلٹی اور لازمی لیبلنگ کی عدم موجودگی سمیت متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جس پر متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹرز کو 5 اصلاحی اور 2 فائنل نوٹسز جاری کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ سیٹلائٹ ٹائون اور سرکی روڈ میں بھی 21 فوڈ یونٹس کی چیکنگ کے دوران 4 مراکز کو جرمانہ کیا گیا۔ ایک دکان سے انفینٹ فارمولا دودھ ضبط کرکے قانونی کارروائی اور قانون کے مطابق محفوظ تلفی کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی تحویل میں لے لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق ایک جنرل اسٹور سے غیر فوڈ گریڈ رنگ، ممنوعہ چائنیز نمک اور گٹکا برآمد ہونے پر جرمانہ کیا گیا، جبکہ ایک جوس و آئس کریم شاپ کو ناقص صفائی، زائدالمیعاد مشروب، کھلے ڈرینج اور نامکمل حفاظتی لباس پر جرمانہ کیا گیا۔ ایک دودھ و ٹی اسٹور سے بڑی مقدار میں سکمڈ ملک/خشک دودھ پاڈر اور غلط لیبلنگ والی اشیا برآمد ہوئیں، جبکہ انوائس فراہم نہ کرنے اور نامناسب اسٹوریج پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ایک ہوٹل کو ناقص صفائی، کھلے ڈسٹ بن، نامناسب نکاسی آب اور ورکرز کے نامکمل حفاظتی لباس پر جرمانہ کیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ میزان چوک اور میکانگی روڈ کوئٹہ میں عوامی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے ایک جنرل اسٹور، ایک ریسٹورنٹ اور 2 فاسٹ فوڈ پوائنٹس کے مالکان کو جرمانہ کیا گیا۔ کارروائی کی وجوہات میں صفائی کی ابتر صورتحال، ورکرز کی ذاتی صفائی کا فقدان، کھلے کوڑے دان، پراسیسنگ ایریا میں گندگی، نامناسب نکاسی آب، مکھیوں کی بھرمار، زنگ آلود و جراثیم زدہ ریفریجریٹرز، مضر صحت کھلے کوکنگ آئل کا استعمال، خراب گوشت، زائدالمیعاد بریڈ و اسنیکس، مصالحہ جات اور خشک دودھ کی موجودگی جبکہ اشیا پر تیاری اور معیاد ختم ہونے کی تاریخ درج نہ ہونا شامل ہیں۔
ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ لورالائی میں بھی مختلف مراکز کا معائنہ کیا گیا، جہاں معمولی نقائص پر اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے اور دکانداروں کو فوڈ سیفٹی ایس او پیز سے آگاہ کیا گیا۔ مراکز مالکان کو فوڈ بزنس لائسنس جلد حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی سہولت کے لیے لائسنس فارم بھی فراہم کیے گئے۔ترجمان کے مطابق گوادر میں بھی فوڈ اتھارٹی حکام نے مختلف اشیائے خوردونوش کے مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا اور معمولی نقائص پر اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔
دکانداروں کو فوڈ سیفٹی ایس او پیز سے آگاہی دینے کے ساتھ خوراک کے کاروبار کے لیے فوڈ بزنس لائسنس کے حصول کی ہدایت کی گئی اور موقع پر لائسنس فارم بھی فراہم کیے گئے۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے غیر رجسٹرڈ، غیر معیاری اور غیر ٹریس ایبل دودھ و فارمولا مصنوعات سمیت ناقص اشیائے خوردونوش کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
P







