وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کا براڈ پیک حادثے سمیت حالیہ کوہ پیمائی واقعات کا نوٹس، ٹریکنگ قوانین اور ایس او پیز پر نظرثانی کا فیصلہ
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کا براڈ پیک حادثے سمیت حالیہ کوہ پیمائی واقعات کا نوٹس، ٹریکنگ قوانین اور ایس او پیز پر نظرثانی کا فیصلہ

مزید خبریں
گلگت۔ 04 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے رواں سال کوہ پیمائی کے دوران پیش آنے والے متعدد حادثات، بالخصوص براڈ پیک کے حالیہ حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو کوہ پیماؤں، ٹریکنگ گروپس، ماؤنٹین گائیڈز اور پورٹرز کی جان و سلامتی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر گلگت بلتستان حکومت نے 1999 کے ٹریکنگ رولز اینڈ ریگولیشنز، متعلقہ طریقہ کار، شرائط و ضوابط اور ایس او پیز کا جامع ازسرنو جائزہ لینے اور حالیہ حادثات میں ممکنہ غفلت یا انتظامی کوتاہی کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری فاریسٹ، وائلڈ لائف اینڈ پارکس سبطین احمد کریں گے جبکہ سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ضمیر عباس بطور ممبر/کنوینر اور کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان بطور ممبر شامل ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے کمیٹی کو براڈ پیک حادثے میں ممکنہ کوتاہیوں کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹریکنگ قوانین کا شق وار جائزہ لینے اور فرسودہ، غیر مؤثر یا نامکمل شقوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرمیٹ اور رجسٹریشن، بریفنگ و ڈی بریفنگ، لائژن آفیسرز اور ماؤنٹین گائیڈز کی ذمہ داریاں، حفاظتی سامان، پورٹرز کی اجرت و فلاح و بہبود، انشورنس، طبی سہولیات و انخلاء، مواصلاتی نظام اور ہنگامی رسپانس کے طریقہ کار کو موجودہ حالات اور بین الاقوامی حفاظتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ نے لائژن آفیسرز، ماؤنٹین گائیڈز اور پورٹرز کے لیے موجودہ انشورنس کوریج کا بھی ازسرنو جائزہ لینے اور موجودہ خطرات و اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر اور حقیقت پسندانہ انشورنس کوریج تجویز کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے دور دراز اور محدود علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو، ہیلی کاپٹر ایویکوایشن، موسم کی پیش گوئی و ارلی وارننگ، مواصلات اور ہنگامی امداد کے انتظامات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی تاکہ مستقبل میں جانی نقصان کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر اوپن اور ریسٹرکٹڈ زونز سمیت مختلف ٹریکس اور پاسز کی موجودہ درجہ بندی کو زمینی حقائق کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ڈیجیٹل پرمیٹ و رجسٹریشن نظام، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور ٹریکنگ و کوہ پیمائی قوانین کا باقاعدہ وقفوں سے جائزہ لینے کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت خطے میں کوہ پیمائی اور سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ سیاحوں، کوہ پیماؤں، گائیڈز اور پورٹرز کے تحفظ و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔کمیٹی کو 15 دن کے اندر جامع رپورٹ، سفارشات اور مجوزہ ترمیم شدہ قوانین و ایس او پیز کا مسودہ مجاز اتھارٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔







