بلوچستان میں لائیو سٹاک کی ترقی اور فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں،وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام

اسلام آباد ۔ یکم ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ زراعت سی پیک کے 7 اہم حصوں میں سے ایک ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو جنوبی بلوچستان کی ترقی سے متعلق مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں بلوچستان کے اضلاع واشک، خاران، پنجگور، کچ، لسبیلہ، آواران، خضدار اور گوادر کی ترقی کے …

اسلام آباد ۔ یکم ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ زراعت سی پیک کے 7 اہم حصوں میں سے ایک ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو جنوبی بلوچستان کی ترقی سے متعلق مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں بلوچستان کے اضلاع واشک، خاران، پنجگور، کچ، لسبیلہ، آواران، خضدار اور گوادر کی ترقی کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سائنسی طور پر زرعی معاشی نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے، بلوچستان میں لائیو سٹاک کی ترقی اور فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندری ماہی گیری بلوچستان زرعی معیشت کے لئے اہم ثابت ہو سکتی ہے، فصلوں کی ویلیو ایڈیشن کے لئے بلوچستان سرفہرست ہو سکتا ہے۔ اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق عمر حمید خان نے بتایا کہ 24 جولائی کو وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی ترقیاتی کونسل (این ڈی سی) تشکیل دی گئی تھی۔ این ڈی سی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر جنوبی بلوچستان کے لئے خصوصی اقدام کرے گی۔ وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان میں لائیو سٹاک موجود ہے جبکہ واشک، خضدار اور لسبیلہ میں لو ڈیلٹا فصلوں کی کاشت بھی کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم ایمرجنسی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جننگ سہولت کے ذریعے کے پی اور بلوچستان میں کپاس پر کام ہو رہا ہے۔ بلوچستان میں نامیاتی کپاس کو فروغ دینا طویل مدتی حکمت عملی ہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ خضدار، خاران اور آواران میں زیتون سمیت دیگر فصلوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے، زیتون کے باغ اور نرسریوں کا قیام، زیتون کے تیل نکالنے والے یونٹوں کی تنصیب اور پاک زیتون کی برانڈ / مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں