اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان کے علاقے دُگاری میں ایک نوجوان لڑکی کے مبینہ طور پر جرگہ کے حکم پر قتل کے واقعہ کو ایک بہیمانہ، سفاکانہ اور انسانیت سوز جرم قرار دیا ہے۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کے آئین اور …
بلوچستان میں نوجوان لڑکی کے مبینہ طور پر جرگہ کے حکم پر قتل کا واقعہ بہیمانہ، سفاکانہ اور انسانیت سوز جرم ہے، اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان کے علاقے دُگاری میں ایک نوجوان لڑکی کے مبینہ طور پر جرگہ کے حکم پر قتل کے واقعہ کو ایک بہیمانہ، سفاکانہ اور انسانیت سوز جرم قرار دیا ہے۔
پیر کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے سراسر منافی ہے اور اس نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے،یہ قتل غیرت کا نہیں، غیرت کا قتل ہے، کوئی رسم، روایت یا متوازی نظام کسی عورت کو اپنی مرضی سے جینے کے فیصلے پر قتل کرنے کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی بربریت کسی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتی،اس ہولناک جرم کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور حکومتِ بلوچستان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملوث افراد کے خلاف سخت اور عبرتناک کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ایسے غیر انسانی رواجوں کے خاتمے اور متاثرہ افراد کو فوری، غیر جانبدار اور مؤثر انصاف کی فراہمی کے لئے پُرعزم ہے۔








