چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے قومی یکجہتی کے فروغ میں نوجوان نسل کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔
بلوچستان میں پائیدار امن اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لئے قومی یکجہتی کو فروغ دینے ، نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے قومی یکجہتی کے فروغ میں نوجوان نسل کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت ، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دہشت گردی کے خلاف واضح موقف ہے۔ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں اور ان کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے آپریشن شعبان شروع کیا ہے ، دشمن ہمیں تقسیم کرنا چاہتا ہے لیکن ہمیں متحد رہنا ہوگا۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج ایوانِ صدر میں آپ سب کا خیرمقدم کرتے ہوئے مجھے خوشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں صدرِ مملکت کی نمائندگی کر رہا ہوں جو اس وقت شہر سے باہر ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 2016 سے یہ پلیٹ فارم ملک بھر سے ارکانِ پارلیمنٹ، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی کے نمائندوں، نوجوانوں، ماہرینِ تعلیم اور میڈیا کے افراد کو ایک جگہ جمع کرتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فیلڈ دوروں، پارلیمانی قیادت اور پالیسی سازوں کے ساتھ آپ کی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہی ہے۔ یہ ورکشاپ محض ایک تربیتی پروگرام نہیں بلکہ ایک پل ہے، یہ صوبوں کے درمیان، مختلف نقطۂ نظر کے درمیان اور ان چیلنجز اور ان کے حل کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم کرتی ہے جن کا ہمیں مل کر سامنا کرنا ہے۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ میں کئی دہائیوں سے عوامی زندگی سے وابستہ ہوں، میں نے ایک بات سیکھی ہے کہ بطور قوم ہم سب ایک ساتھ ترقی کرتے ہیں اور ایک ساتھ ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہماری قومی شناخت کا مرکزی حصہ ہے، اس کا ساحل بحیرۂ عرب کے ساتھ پھیلا ہوا ہے، اس کے پہاڑ خطے کے بعض انتہائی قیمتی معدنی ذخائر سے مالا مال ہیں اور اس کا محلِ وقوع جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی حقیقت بلوچستان کو پاکستان کے معاشی مستقبل اور قومی سلامتی کا ایک بنیادی ستون بناتی ہے تاہم ہمیں سکیورٹی، سماجی و معاشی اور انسانی ترقی کے شعبوں میں درپیش چیلنجز کا دیانت داری سے اعتراف بھی کرنا ہوگا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے پس پردہ دشمن کا ایک واضح نام ہے جو فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج ہے۔ یہ بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر ہیں جنہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہماری سرحدوں کے پار سے بھیجا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عناصر اب فوجی اہداف کے بجائے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بزدلی کی علامت ہے اور ایک ناکام ہوتی ہوئی سوچ کی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے اس چیلنج کا بھرپور مقابلہ کیا ہے۔ پاک فوج، فرنٹیئر کور بلوچستان اور پولیس نے آپریشن شعبان شروع کیا ہے جبکہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر واضح کرچکے ہیں کہ سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی کو ریاست اپنی پوری قوت سے کچل دے گی۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہماری سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم کو سراہا ہے اور میں بھی ان کی تحسین میں اپنی آواز شامل کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہم ہر اُس فوجی، پولیس اہلکار اور افسر کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے پاکستان کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ہم ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس مقصد سے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں جس کے لیے انہوں نے بے لوث خدمت انجام دی۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ پائیدار امن صرف ریاست کی کوششوں سے ممکن نہیں، بلوچستان کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کو صوبے کے مستقبل کا محور بنانا ہوگا، ان کی شمولیت، احساسِ ملکیت اور اعتماد ہی دیرپا امن اور بامعنی ترقی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہمیں تقسیم کرنا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ بلوچستان خود کو تنہا محسوس کرے اور ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف رہیں، یہی اس کی حکمتِ عملی ہے لیکن وہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب ہم متحد ہوتے ہیں تو کامیابی ہمارا مقدر بنتی ہے۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ جب میں وزیراعظم تھا تو بلوچستان کے جائز تحفظات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔
آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج جسے پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا ایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تھا جس کا مقصد سیاسی اور معاشی شکایات کا ازالہ، صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور اس امر کو یقینی بنانا تھا کہ قدرتی وسائل سے مقامی آبادی بھی مستفید ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی دور میں ہم نے تاریخی ساتواں این ایف سی ایوارڈ حاصل کیا جس کا اعلان گوادر میں کیا گیا، اس اتفاقِ رائے پر مبنی معاہدے کے نتیجے میں بلوچستان کا مالی حصہ قابلِ تقسیم محاصل میں نمایاں طور پر بڑھایا گیا جس سے صوبے کو مقامی ترقی کے لیے زیادہ وسائل میسر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گیس ڈویلپمنٹ سرچارج اور رائلٹی کی بقایا رقوم بھی ادا کیں جس سے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے لیے براہِ راست مالی وسائل فراہم ہوئے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کی وفاقی محکموں، سول سروس اور مسلح افواج میں نمائندگی بڑھانے کے لیے خصوصی کوٹے مقرر کیے گئے، اسی طرح مقامی قیادت کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی پالیسی اپنائی گئی تاکہ استحکام، آئینی حقوق اور جامع ترقی کو فروغ دیا جاسکے، یہ عزم آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آئینی تقاضا ہے کہ صوبائی حقوق کا تحفظ کیا جائے، وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے اور ترقی کے ثمرات پاکستان کے ہر خطے تک پہنچائے جائیں لیکن صرف ترقی کافی نہیں، سکیورٹی کے بغیر ترقی کھوکھلی ہے، اتحاد کے بغیر سکیورٹی کمزور ہے اور باہمی فہم کے بغیر اتحاد ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی لیے یہ ورکشاپ اہمیت رکھتی ہے۔ شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ مختلف صوبوں، مختلف پیشوں اور مختلف پس منظر سے آئے ہیں۔ آپ نے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، ماہرین اور پالیسی سازوں سے ملاقاتیں کیں اور مختلف تجربات رکھنے والے لوگوں سے سیکھا۔ اب آپ جان چکے ہیں کہ حقیقت میں ہم ایک دوسرے سے اتنے مختلف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری امیدیں ایک جیسی ہیں، ہمارے خدشات ایک جیسے ہیں اور اپنے بچوں کے لیے ہمارے خواب بھی ایک جیسے ہیں۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ آپ صرف اس ورکشاپ کے شرکا نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان کے مستقبل کے رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشحالی ہی امن کا واحد پائیدار راستہ ہے، جب ایک نوجوان کو روزگار ملتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ہتھیار آنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں، جب ایک بچی تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی آنے والی نسل زیادہ صحت مند اور بہتر تعلیم یافتہ ہوتی ہے، جب کسی کمیونٹی کو سڑکیں، بجلی اور صاف پانی میسر آتا ہے تو وہ اپنے مستقبل سے مضبوط تعلق محسوس کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں، اسی لیے وہ سکولوں پر حملے کرتے ہیں، مزدوروں کو قتل کرتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان ترقی کرے، نہ ہی وہ پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا چاہتے ہیں اور ہم انہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنی عظیم ثقافت، تاریخ اور روایات کے ساتھ ہماری قومی شناخت کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جن مشکلات کا سامنا کیا، ان کے باوجود بلوچستان کے عوام میں جو حوصلہ، ثابت قدمی اور عزم دیکھا، وہ ہم سب کے لیے امید اور طاقت کا سرچشمہ ہے، میں وہی عزم آپ سب کے چہروں پر بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے اس پر پورا یقین ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ اس ورکشاپ سے صرف زیادہ معلومات ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے چیلنجز اور اس کی بے پناہ صلاحیتوں کی گہرا فہم اور ادراک بھی لے کر واپس جائیں گے، اس شعور کو جہاں بھی جائیں اپنے ساتھ لے جائیں اور قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے سفیر بنیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ آپ نے سیکھا ہے اسے عملی زندگی میں نافذ کریں، تنوع کا احترام کریں، آئینی اقدار کی پاسداری کریں اور جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ پاکستان کے دشمن چاہتے ہیں کہ ہم تقسیم ہو جائیں اور ایک دوسرے سے لڑتے رہیں، انہیں یہ موقع ہرگز نہ دیں، مل کر کھڑے ہوں، متحد رہیں اور پاکستان کے لیے کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آپ کا وقت ہے، یہ آپ کی ذمہ داری ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اس ذمہ داری کو بخوبی نبھائیں گے۔ قبل ازیں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے کوآرڈینیٹر بریگیڈئیر خاقان سرور نے اپنے خطاب میں ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ یہ بلوچستان حکومت کا اقدام ہے جس کا آغاز 2017 میں گیا گیا۔انہوں نےکہا کہ یہ ورکشاپ بلوچستان حکومتِ بلوچستان کا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے جس کا مقصد قومی ہم آہنگی اور صوبہ اور اس کے عوام سے متعلقہ امور پر تعمیری مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں اراکین اسمبلی، صحافیوں، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم اور نوجوان قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے سے قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ 20 ویں نیشنل ورکشاپ برائے بلوچستان میں میڈیا سمیت مختلف اداروں سے 100 افراد شریک ہوئے جن کا تعلق بلوچستان سمیت ملک کے مختلف صوبوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرکا میں سے 70 فیصد کا تعلق بلوچستان جبکہ دیگر 30 فیصد کا تعلق ملک کے دیگر علاقوں سے ہے۔انہوں نے کہا کہ شرکا کی اب تک وزیراعظم ، چیف آف ڈیفنس فورسز، گورنر خیبرپختونخوا ، وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر بلوچستان کے حوالے سے شرکاء کے مختلف سوالات کے جواب بھی دیئے۔ تقریب میں صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔








