بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) میں فوٹوگرافی، خاکہ نگاری اور پینٹنگ کے مقابلے اور نمائش کا انعقاد کیا گیا
بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز میں فوٹوگرافی، خاکہ نگاری اور پینٹنگ کے مقابلے اور نمائش کا انعقاد
کوئٹہ۔ 23 ستمبر (اے پی پی):بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) میں فوٹوگرافی، خاکہ نگاری اور پینٹنگ کے مقابلے اور نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد فنونِ لطیفہ کے موثر اور تخلیقی ذرائع کے ذریعے پانی کے انتظام، زراعت، لائیوسٹاک اور رینج لینڈز سے متعلق عوامی شعور اور آگاہی کو فروغ دینا ہے۔ تقریب آگاہی بڑھانے اور نالج مینجمنٹ پراجیکٹ کے تحت منعقد کی گئی، جسے یورپی یونین (EU) نے ریوائیول آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ منصوبے پر BUITEMS نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) پاکستان کے تعاون سے عملدرآمد کیا۔تقریب میں وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر حفیظ خالد، پرو وائس چانسلر میر وائس کاسی، رجسٹرار بیوٹمز جمال مصطفی، ڈائریکٹر کمیونیکیشن سید دارا شکوہ امیر، ڈائریکٹر آئی سی آر ایم ایس اینڈ کوالٹی ڈاکٹر زاہد روف اور ٹیم لیڈ پروفیسر ڈاکٹر جان محمد سمیت یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔نمائش میں طلبہ اور نوجوان فنکاروں کی جانب سے بلوچستان کے منفرد جغرافیائی، ماحولیاتی اور زرعی حالات کو موضوع بناتے ہوئے مختلف تصاویر، خاکے اور پینٹنگز پیش کی گئیں۔ فن پاروں کے ذریعے صوبے میں پانی کی اہمیت، محدود آبی وسائل، پانی کے موثر اور ذمہ دارانہ استعمال، زرعی سرگرمیوں، لائیوسٹاک، قدرتی چراگاہوں اور ماحول کے تحفظ جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا گیا۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں پانی ایک انتہائی اہم قدرتی وسیلہ ہے اور صوبے کی زراعت، لائیوسٹاک، معیشت اور ماحولیاتی توازن کا براہِ راست انحصار پانی کے موثر انتظام اور دستیابی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے محدود وسائل کے تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کے لیے جدید علم، تحقیق، بہتر منصوبہ بندی اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو پانی کے تحفظ، قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور ماحول دوست اقدامات کے حوالے سے آگاہ کرنا مستقبل کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے فوٹوگرافی، خاکہ نگاری اور پینٹنگ جیسے تخلیقی ذرائع نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ پیچیدہ ماحولیاتی اور سماجی مسائل کو عام فہم انداز میں عوام تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں نے بلوچستان کے آبی وسائل، زراعت، لائیوسٹاک اور رینج لینڈز کی اہمیت کو منفرد اور موثر بصری انداز میں اجاگر کیا۔ شرکانے طلبہ اور نوجوان فنکاروں کی تخلیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوانوں کو تحقیق، تخلیق اور معاشرتی و ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔تقریب کے منتظمین کے مطابق آگاہی بڑھانے اور نالج مینجمنٹ پراجیکٹ کے تحت اس سرگرمی کا بنیادی مقصد بلوچستان کے آبی و قدرتی وسائل سے متعلق معلومات کو موثر انداز میں عام کرنا، متعلقہ شعبوں میں شعور اجاگر کرنا اور نوجوانوں کو صوبے کے اہم ماحولیاتی و معاشی مسائل سے جوڑنا ہے۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دیکھانے والے طلبا میں وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر حفیظ خالد نے اسناد تقسیم کیے۔









