بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر اقتدار ریاست منی پور میں گزشتہ تین سال سے جاری نسلی تشدد میں کم از کم 306 فراد ہلاک ،49 لاپتہ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر اقتدار ریاست منی پور میں گزشتہ تین سال سے جاری نسلی تشدد میں کم از کم 306 فراد ہلاک جبکہ 49 لاپتہ ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر داخلہ گوونداس کونتھوجام نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ یہ اعداد و شمارمئی 2023 سے اب تک کے ہیں

امپھال۔4ستمبر (اے پی پی):بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر اقتدار ریاست منی پور میں گزشتہ تین سال سے جاری نسلی تشدد میں کم از کم 306 فراد ہلاک جبکہ 49 لاپتہ ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر داخلہ گوونداس کونتھوجام نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ یہ اعداد و شمارمئی 2023 سے اب تک کے ہیں ۔ مئی 2023سے منی پورمیں جاری پرتشددواقعات میں 306افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان تشدد کا آغاز 3مئی 2023 کو ہوا تھا۔ یہ تشدد پہاڑی ضلعوں میں "قبائلی یکجہتی مارچ” منعقد ہونے کے بعد شروع ہوا، جو میتی برادری کی "درج فہرست قبائل” ا درجہ پانے کے مطالبہ کی مخالفت میں نکالا گیا تھا۔ اس کے بعد سے نسلی تشدداورآتشزدگی کے واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جوآج تک جاری ہے ۔میٹی ریاست کی آبادی کا تقریبا 53فیصد ہیں اور زیادہ تر امپھال وادی میں آباد ہیں، جبکہ ناگا اور کوکی سمیت قبائلی برادریاں تقریبا 40فیصد آبادی پر مشتمل ہیں اور بنیادی طور پر پہاڑی اضلاع میں مقیم ہیں۔ تنازع کے نتیجے میں تقریبا 60ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

ریاستی پولیس کے مطابق 15ستمبر 2023 تک 175افراد ہلاک، ایک ہزار118زخمی اور 33 لاپتہ ہوئے تھے جبکہ 96لاشیں ناقابل شناخت یا لاوارث قرار دی گئی تھیں۔پرتشدد واقعات کے دوران این بیرن سنگھ کی زیر قیادت بی جے پی حکومت 9فروری 2025کو مستعفی ہوگئی تھی ، جس کے بعد 13فروری کو منی پور میں صدارتی راج نافذ کر دیا گیا۔ ریاستی اسمبلی جس کی مدت 2027تک ہےکو معطل کردیاگیاتھا۔ صدارتی راج 4فروری 2026 کو ختم کیا گیا اور بی جے پی لیڈر یومنم کھیمن چند سنگھ کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی۔منی پور کی سیاسی تاریخ بھی بھارتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت سے عبارت ہے۔ 1891کی اینگلو منی پور جنگ کے بعد برطانوی قبضے میں جانے والی ریاست نے 14اگست 1947کو منی پور اسٹیٹ کانسٹی ٹیوشن ایکٹ 1947کے تحت دوبارہ سیاسی خود اختیاری حاصل کی اور ایک منتخب قانون ساز اسمبلی قائم کی۔بعد ازاں ستمبر 1949 میں منی پور کے مہاراجہ بودھ چندر سنگھ نے بھارتی حکومت کے ساتھ انضمام کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے نتیجے میں منی پور کی علیحدہ سیاسی حیثیت ختم ہوگئی۔

میتی آبادی کے ایک حصے نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مہاراجہ کو ریاست کی سیاسی حیثیت ختم کرنے کا یکطرفہ اختیار حاصل نہیں تھا بعد میں یونائیٹڈ نیشنل لبریشن فرنٹ (UNLF)، پیپلز ریوولوشنری پارٹی آف کانگلی پاک (PREPAK) اور پیپلز لبریشن آرمی (PLA) سمیت مختلف مسلح گروہوں نے بھارتی کنٹرول کو چیلنج کیا۔29 اکتوبر 2019 کو منی پور سے تعلق رکھنے والے رہنماں یامبن بیرن اور نرنگبم سمرجیت نے لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خود ساختہ منی پور حکومتِ جلاوطنی کے قیام کا اعلان کیا اور عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ سے تسلیم کیے جانے کی کوشش کا اعلان کیا۔

مزید خبریں