امریکا اور نیپال میں بھارتی شہریوں کی جانب سے جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات نے بھارت کے مجرمانہ کردار کو عالمی سطح پر دوبارہ بے نقاب کر دیا ہے
بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے گرد عالمی سطح پر گھیرا تنگ، امریکا اور نیپال میں بھارتی مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون

مزید خبریں
واشنگٹن ۔21ستمبر (اے پی پی):امریکا اور نیپال میں بھارتی شہریوں کی جانب سے جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات نے بھارت کے مجرمانہ کردار کو عالمی سطح پر دوبارہ بے نقاب کر دیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ان کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ بھارتی نیٹ ورکس سرحد پار بھی قانون کو چیلنج کر رہے ہیں۔ امریکی جریدے فریٹ ویوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست پنسلوانیا میں ایک اہم کارروائی کے دوران سمرن پال سنگھ نامی بھارتی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام نے ٹرک کی تلاشی کے دوران اسے حراست میں لیا، جبکہ اس کے خلاف فراڈ کے مقدمات میں پہلے ہی وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے تھے۔ ادھر نیپال کے علاقے دھنوشا میں بھی پولیس نے ایک بھارتی شہری کو مشکوک سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔ تلاشی کے دوران ملزم کے قبضے سے 13 لاکھ 60 ہزار کی مقامی کرنسی برآمد ہوئی ہے جو بادی النظر میں غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔پولیس کے مطابق ملزم سرحد عبور کرکے نیپال میں داخل ہوا تھا اور مشکوک نقل و حرکت کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی توجہ کا مرکز بنا۔
اس گرفتاری کے بعد نیپالی حکام نے سرحدی علاقوں میں نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو روکا جا سکے۔ دریں اثناء بین الاقوامی سکیورٹی امور کے ماہرین نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مودی کے دور حکومت میں قانون کی عملداری کمزور پڑ چکی ہے۔ اسی وجہ سے بھارت عالمی سطح پر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا ایک بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی شہریوں کابیرون ممالک میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی سطح پر مجرموں کو تحفظ حاصل ہے۔ یہ صورتحال خطے کے دیگر ممالک کی داخلی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی ادارے بھارتی مجرمانہ نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا نوٹس لیں۔
ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کے اندر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں جس کے اثرات اب دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔







