اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):بھارتی حکومت نے ایسے درجنوں ٹویٹر اکائونٹس بند کر دیئے ہیں جو کسانوں کے احتجاج کے دوران ان پر ہونے والے حکومتی مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔ بھارتی حکومت کسانوں کے احتجاج کو کچلنے کیلئے مظالم ڈھا رہی ہے جس کے خلاف ٹویٹر اکائونٹس، میڈیا اور کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے، بھارت نے شرمندگی سے بچنے …
بھارتی حکومت نے کسانوں کے احتجاج کے دوران ہونے والے حکومتی مظالم کے خلاف آواز بلندکرنے والے درجنوں ٹویٹر اکائونٹس بند کر دیئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔1فروری (اے پی پی):بھارتی حکومت نے ایسے درجنوں ٹویٹر اکائونٹس بند کر دیئے ہیں جو کسانوں کے احتجاج کے دوران ان پر ہونے والے حکومتی مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔ بھارتی حکومت کسانوں کے احتجاج کو کچلنے کیلئے مظالم ڈھا رہی ہے جس کے خلاف ٹویٹر اکائونٹس، میڈیا اور کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے، بھارت نے شرمندگی سے بچنے کیلئے ٹویٹر سے 250 اکائونٹس بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعد پنجاب اور نئی دہلی کو شعلوں میں جھونک دیا ہے، مظاہرین کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹر اکائونٹس معطل کئے جانے کے ساتھ انٹرنیٹ بند ہے۔ معروف صحافیوں پر سچ بولنے پر بغاوت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اس مرتبہ نہ صرف کشمیر میں مظالم کی انتہا ہے بلکہ پنجاب اور نئی دہلی بھی اس کی زد میں ہیں۔ نریندرا مودی کی حکومت جسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی رسوائی کا سامنا ہے اب کسان دشمن قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو نشانہ بنانے پر سخت تنقید کی زد میں ہے۔ بی جے پی کی حکومت کسانوں کی ریلیوں کی خبریں دینے پر میڈیا کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے جنہوں نے بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں زبردست احتجاج کیا تھا۔ جن صحافیوں نے مودی کی فاش ازم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا،ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکائونٹس معطل کئے جا رہے ہیں۔ صحافیوں اور نیوز پورٹلز کے خلاف بے تحاشا ایف آئی آرز درج کئے جانے کے بعد متعدد صحافیوں، میڈیا اداروں اور سماجی کارکنوں کے ٹویٹر اکائونٹس بند کئے جا رہے ہیں جن میں اداکار سوشانت سنگھ، کاررواں میگزین اور کسان ایکٹا مورچہ (کسانوں کے احتجاج کیلئے آفیشل پیج)شامل ہیں۔ بھارت کی سب سے بڑی پبلک براڈ کاسٹنگ سروس پراسر بھارتی کے سی ای او شاشی شیکھرومپاتی اور ایم ڈی آصف خان اور ہنس راج مینا کے بھی ٹویٹر اکائونٹس بند کئے گئے۔ کسانوں کے ایجی ٹیشن کے آئی ٹی سربراہ بلجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ کچھ دیگر کارکنوں کے نجی اکائونٹس بھی معطل کر دیئے گئے ہیں۔ بھارتی وزارت الیکٹرانکس اور آئی ٹی نے ٹویٹر کو ہدایت کی ہے کہ 250 ٹویٹر/ٹویٹ اکائونٹس بند کر دیئے جائیں۔بھارتی حکومت اس حد تک حواس باختہ ہو گئی ہے کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ شاشی تھرور کو بھی بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جن صحافیوں پر بغاوت کے الزامات ہیں ان میں راج دیپ، سردیسے، مرینل پانڈے، ونود کے جوز (دی کاررواں) اور دیگر صحافی شامل ہیں۔ اترپردیش پولیس نے ہفتہ کو انہی الزامات میں خبر رساں ادارہ کے بانی ایڈیٹر سدھارتھ ورادراجان کو گرفتار کیا۔ بی جے پی کی حکمران ریاستوں میں پولیس نے ان صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے جنہوں نے کاشتکاروں کی ریلی کی خبریں دیں جسے صحافی تنظیمیں آزادی صحافت پر ایک دانستہ حملہ قرار دے رہی ہیں۔ دیگر جن صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ان میں ٹوڈیز کے سینئر اینکر راج دیپ سردیسے، نیشنل ہیرلڈ کے سینئر کنسلٹنگ ایڈیٹر مرینل پانڈے، کاررواں میگزین کے ایڈیٹر اور بانی پریشا ناتھ، ایڈیٹر آننت ناتھ اور ایگزیکٹو ایڈیٹر ونود کے جوز اور قومی آواز کے ایڈیٹر ظفر آغا شامل ہیں۔ زیادہ تر مقدمات بغاوت کے قانون پر بنائے گئے ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹویٹس کا مقصد تشدد پر اکسانا تھا۔ بھارت کے میڈیا اداروں نے صحافیوں کے خلاف فوجداری مقدمات کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد صحافیوں کو خوفزدہ اور ہراساں کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں پریس کونسل آف انڈیا، ایڈیٹرز گائیڈ آف انڈیا، پریس ایسوسی ایشن، ویمن پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس اور انڈین جرنلسٹس یونین کی جانب سے مشترکہ پریس میٹنگ میں حکومتی اقدام پر سخت تنقید کی گئی جس میں بھارت کے معروف صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور کسانوں اور صحافیوں پر بھارتی حکومت کے پرتشدد مظالم پر سخت افسوس اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ دی پرنٹ کے ایڈیٹر شیکھر گپتا نے کہا کہ ان صحافیوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کی انہیں اتنی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ صحافیوں سے معمولی خطائیں سرزد ہوتی ہیں لیکن یہ کوئی جرم نہیں۔ پریس کونسل آف انڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تاثر کہ خبروں میں کسانوں کو تشدد کیلئے اکسایا گیا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔








