بھارتی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیاں خطے کے امن و سلامتی کےلئے سنگین خطرہ ہیں،شیخ عبدالمتین

راولپنڈی ۔21اکتوبر (اے پی پی):آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سیکرٹری انفارمیشن شیخ عبدالمتین نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیاں خطے کے امن و سلامتی کےلئے سنگین خطرہ ہیں، 27 اکتوبر کو بھارت نے کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس طاقت کے بل بوتے پر فوج داخل کرکے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا، ہم اپنی جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب …

راولپنڈی ۔21اکتوبر (اے پی پی):آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کے سیکرٹری انفارمیشن شیخ عبدالمتین نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیاں خطے کے امن و سلامتی کےلئے سنگین خطرہ ہیں، 27 اکتوبر کو بھارت نے کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس طاقت کے بل بوتے پر فوج داخل کرکے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا، ہم اپنی جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ہمیں اپنا حق خودارادیت نہیں مل جاتا، اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری جہاں پر بھی ہے وہ 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ اس دن بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی آزادی کی آواز دبانے کےلئے اپنی فوج داخل کی جس میں وہ مسلسل اضافہ کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے ایک اور مذموم قدم اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنایا اور اس کے بعد سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے، بھارت کرفیو کے ذریعے تحریک آزادی کشمیر کچلنا چاہتا ہے اور بلیک لاز کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے مگر بھارتی فوج کے مظالم سے کشمیریوں کا جذبہ آزادی کم نہیں کیا جا سکتا، ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں مل جاتا، انہوں نے پاکستان کی کشمیر کے حوالے سے کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان 1947 سے آج تک کشمیر کی سفارتی اور اخلاقی مدد کر رہا ہے جس کو ہر کشمیری سراہتا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بالخصوص وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جس طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کشمیر کا مسلہ بھرپور طریقے سے دنیا کے سامنے اٹھایا وہ قابل ستائش ہے۔