بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ساحلی علاقے میں واقع کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کا ڈیٹا لیک ہوگیا۔
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں واقع نیوکلیئر پاور پلانٹ کا ڈیٹا لیک ، پلانٹ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جوہری ماہری

مزید خبریں
نئی دہلی ۔17جولائی (اے پی پی):بھارتی ریاست تامل ناڈو کے ساحلی علاقے میں واقع کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کا ڈیٹا لیک ہوگیا۔
بی بی سی کے مطابق بھارت کے سرکاری جوہری ادارے نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ نے کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیک ہونے والے ڈیٹا سے متعلق اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظر عام پر آنے والی معلومات میں جوہری تحفظ یا سکیورٹی سے متعلق تفصیلات شامل نہیں ہیں۔بھارت نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے بیان میں کہا ہے کہ میڈیا میں نیوکلئیر پلانٹ کے بارے میں جس معلومات کے لیک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ ’’کامن سروس فیسیلٹیز‘‘ کی تعمیر اور اس کے لیے سامان کی خریداری وغیرہ سے متعلق ہیں ۔بیان کے مطابق یہ ’’فیسیلٹی‘‘ روایتی نوعیت کی ہے، جو تھرمل پاور پلانٹ اور اس طرح کی دوسری صنعتی تنصیبات میں بھی بنائی جاتی ہیں۔بھارت کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن کا یہ وضاحتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک ہیکر گروپ ’’ورلڈ لیکس ‘‘ کی جانب سے انڈیا کے سب سے بڑے نیوکلیئر پلانٹ کوڈن کولم سے متعلق تقریباً 19 ہزار ڈیجیٹل فائلیں چوری کرنے اور انھیں ڈارک ویب پر شیئر کرنے کے حوالے سے خبر شائع کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ورلڈ لیکس کی ویب سائٹ پر شائع ان معلومات میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے وینٹی لیٹر کا خاکہ اور کنٹرول روم کا نقشہ بھی شامل ہے۔لیک ہونے والی فائلوں میں مبینہ طور پر زیر تعمیر یونٹ سے متعلق وینڈرز اور پلانٹ آپریٹرز اور ریلائنز کمپنی کے انجنیئرز کے مشترکہ معائنے کے ریکارڈ اور آلات کی تصاویر بھی شامل ہیں۔انڈیا کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق خدشات کو مسترد کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم جوہری ماہرین نے بتایا ہے کہ اس طرح کا ڈیٹا لیک ہونے سے پاور پلانٹ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ہیکر گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ فائلیں نجی صنعتی گروپ ریلائنس انفرا سٹرکچر کے سرور سے چوری کی ہیں۔اس کمپنی کو کوڈن کولم جوہری بجلی گھر کےتیسرے اور چوتھے یونٹ میں پلانٹ کی تعمیرات اور انجینئرنگ سے متعلق کام کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ ریلائنس گروپ نے رائٹرز کو اپنے سرور کے ہیک ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے بارے میں کمپنی نے سرور فراہم کرنے والی کمپنی کو جون میں اطلاع دے دی تھی۔دوسری جانب انڈیا کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ریلائنس انفراسٹرکچر کو جو ٹھیکہ دیا گیا تھا اس میں انجینئرنگ ورک، سامان کی خریداری اور کامن فیسیلٹیز کی تعمیر شامل ہیں۔ ان تنصیبات کا کوئی تعلق جوہری سکیورٹی اور سیفٹی سے نہیں ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے سائبر سکیورٹی اداروں نے جوہری بجلی گھرسے متعلق ڈیٹا کے لیک ہونے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔انڈیا کے سرکاری ادارے نے کوڈن کولم پاور پلانٹ کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو مسترد کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات جوہری مرکز کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔یونین آف کنسرنڈ سائنٹسٹس سے منسلک نیوکلیئر پاور سیفٹی کے ڈائریکٹر ایڈون لیمن نے بتایا کہ اگر یہ واقعی کسی جوہری تنصیب کے بلیو پرنٹس (نقشے) ہیں جن میں آلات، پائپ لائنز، کیبلز، دروازوں اور دیگر اندرونی تفصیلات کی نشاندہی کی گئی ہے تو یہ حملہ آوروں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ عام طور پر ایسی معلومات عوامی دسترس سے دور رکھی جاتی ہیں۔پرنسٹن یونیورسٹی میں پروگرام آن سائنس اینڈ گلوبل سکیورٹی کے شریک ڈائریکٹر فرینک این وون ہیپل بھی ایڈون لیمن سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اگر آپ کو اس بات پر تشویش ہے کہ اس تنصیب پر زمینی حملہ کیا جا سکتا ہے، تو اس کے بلیو پرنٹس (نقشے)، خصوصاً وہ جن میں کولنگ سسٹم اور ہنگامی کولنگ نظام کی تفصیلات شامل ہوں، خاص طور پر حساس اور تشویش کا باعث معلومات سمجھی جائیں گی۔کوڈن کولم بھارت کے سات نیوکلیئر پاور پلانٹس میں سے سب بڑا ہے۔یہ روس کی ایک اٹامک کمپنی کی مدد سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس میں ایک، ایک ہزار میگا واٹ کے چھ یونٹس ہیں، جن میں سے دو یونٹس پہلے سے کام کر رہے ہیں جبکہ تیسرے اور چوتھے یونٹس زیر تعمیر ہیں۔








