کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر و پاکستان کے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے سابق مشیرِ وزیراعظم پاکستان ،جمعیت علمائے اسلام گلگت بلتستان کے سابق امیراور موجودہ سرپرستِ اعلیٰ مولانا عطا اللہ شہاب سے ملاقات کی۔
حریت کانفرنس آزاد کشمیر و پاکستان کے وفد کی جے یو آئی گلگت بلتستان کے سابق امیرمولانا عطا اللہ شہاب سے ملاقات، یومِ قراردادِ الحاقِ پاکستان کی تقریبات بارے تبادلۂ خیال

مزید خبریں
گلگت۔17جولائی (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر و پاکستان کے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے سابق مشیرِ وزیراعظم پاکستان ،جمعیت علمائے اسلام گلگت بلتستان کے سابق امیراور موجودہ سرپرستِ اعلیٰ مولانا عطا اللہ شہاب سے ملاقات کی۔
یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق وفد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد، سید اعجاز رحمانی، راجہ خادم حسین، زاہد صفی، شیخ عبدالماجد اور زاہد اشرف شامل تھے۔ملاقات کے دوران بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال، تحریکِ آزادیٔ کشمیر، بھارتی مظالم، اور 19 جولائی یومِ قراردادِ الحاقِ پاکستان کی مناسبت سے گلگت میں منعقد ہونے والی مرکزی ریلی اور دیگر تقریبات کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد نے مولانا عطا اللہ شہاب کو 19 جولائی کے مرکزی پروگرام میں بطورِ خاص شرکت کی دعوت بھی دی۔اس موقع پر غلام محمد صفی نے کہا کہ 19 جولائی کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دن ہے، جو ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے پاکستان کے ساتھ تاریخی، سیاسی اور نظریاتی تعلق کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دن منعقد ہونے والی ریلی کا مقصد شہدائے کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کرنا، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرنا اور عالمی برادری کی توجہ مسئلۂ کشمیر کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی جانب مبذول کرانا ہے۔مولانا عطا اللہ شہاب نے کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہدِ آزادی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام گلگت بلتستان ہمیشہ مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل، کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی بھرپور حمایت کرتی رہے گی۔ انہوں نے 19 جولائی کی مرکزی ریلی میں بھرپور شرکت اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ملاقات خوشگوار اور باہمی اعتماد کے ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مسئلۂ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے، کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کو مزید تقویت دینے اور باہمی رابطوں و تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔








