بھارتی سرپرستی میں مکتی باہنی کی سفاکیت اور غازیوں کی جرأت کی ان کہی داستان

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سقوطِ ڈھاکہ کا المناک سانحہ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی تاریخ کے سینے پر ایک ہولناک انسانی المیے کے طور پر نقش ہے۔ 1971 میں ازلی دشمن بھارت اور دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے سفاکیت کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ اس دور کے چشم دید گواہ اور غازیوں نے دشمن کی سازشوں اور مظالم کی …

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سقوطِ ڈھاکہ کا المناک سانحہ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی تاریخ کے سینے پر ایک ہولناک انسانی المیے کے طور پر نقش ہے۔ 1971 میں ازلی دشمن بھارت اور دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے سفاکیت کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ اس دور کے چشم دید گواہ اور غازیوں نے دشمن کی سازشوں اور مظالم کی دردناک تفصیلات بیان کی ہیں۔فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) پرویز جنگ اور لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالقادر کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کا مطالبہ خود بنگالیوں کا تھا جو کبھی ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے بنگالی بھائی پاکستان سے کبھی جدائی نہیں چاہتے تھے، یہ سب دشمن بھارت کی گہری سازش تھی غازیوں نے 1971 کے حالات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب صورتحال خراب ہوئی تو یہاں سے اضافی دستے بھیجے گئے۔ میجر (ر) عبدالرحمان نے ایک لرزہ خیز واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ "ایک گلی میں دو چھوٹے بچوں کو روتے دیکھا جن کی والدہ کو قتل کر دیا گیا تھا اور بچے کئی روز سے بھوکے تھے”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنگی قیدیوں کو کیمپوں میں کئی روز تک کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا۔

کرنل (ر) منظور بخشی اور بریگیڈئیر (ر) بشیر نے بتایا کہ قید کے دوران بھی پاکستانی جوانوں کے حوصلے بلند تھے۔ انہوں نے بھارتیوں کا حکم ماننے سے انکار کیا اور "پاکستان ڈے” کے موقع پر بھارت سے کپڑا منگوا کر قومی پرچم تیار کیا اور اسے قید خانے میں لہرا کر اپنی وطن پرستی کا ثبوت دیا۔ غازیوں کا کہنا ہے کہ آج بھی ان کی ہمت اور ثابت قدمی نئی نسل کے لیے اپنے وطن سے بے لوث محبت کی شاندار مثال ہے۔