بھارتی ناظم الامور گورو اہلو وآلہ کی دفتر خارجہ طلبی، 4 اگست کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے ایل اوسی کے تتہ پانی سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) بھارتی ناظم الامور گورو اہلو وآلہ کو دفتر خارجہ طلب کر کے 4 اگست کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے تتہ پانی سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 18سالہ لڑکی شہید جبکہ چھ شہری شدید زخمی ہوئے ۔بدھ کو …

اسلام آباد ۔ 5 اگست (اے پی پی) بھارتی ناظم الامور گورو اہلو وآلہ کو دفتر خارجہ طلب کر کے 4 اگست کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) کے تتہ پانی سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 18سالہ لڑکی شہید جبکہ چھ شہری شدید زخمی ہوئے ۔بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) زاہد حفیظ چودھری نے بھارتی ناظم الا مورکو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔ بھارتی ناظم الامور کو بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت ووقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔بھارت نے رواں سال کے دوران 1877 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 15 بیگناہ شہر ی شہید اور 144 زخمی ہوئے ہیں۔بھارتی ناظم الامور کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003 ءکے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یواین ایم او جی آئی پی)کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔